کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8989
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔
وضاحت:
فوائد: … عمر بڑھنے سے مراد برکت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۴۹)
حدیث نمبر: 8990
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے غلام بھی میت کی طرح ہوتا ہے کہ اس کو تصرف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آزادی اس کی زندگی کی طرح ہے، پس جس آدمی نے اپنے باپ کو آزاد کیا، تو گویا اس نے اپنے باپ کو زندہ کر دیا، جیسے اس کا باپ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا، گویا اس نے باپ کے احسان کا جواب دے دیا۔
حدیث نمبر: 8991
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَاهُ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ (مِنْهَا) وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیت یہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔
حدیث نمبر: 8992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَلَى الْهِجْرَةِ) وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا وَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 8993
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … جہاد اہم فریضۂ اسلام اور بڑا مشکل عمل ہے، لیکن جہاد کی رغبت رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے امیر کو اپنے گھر والوں کی صورتحال سے آگاہ کرے۔
حدیث نمبر: 8994
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 8995
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَذِنَا لَكَ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ فَعَلَا وَإِلَّا فَبَرَّهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔
حدیث نمبر: 8996
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت کرنے میں اس کے پاؤں کے نیچے روندی جانے والی مٹی بن جا، یعنی ماں کی جائز خواہش کو دوسری مخلوقات کی خواہشات سے مقدم سمجھ کر پہلے اس کو پورا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 8997
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
حدیث نمبر: 8998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا عِنْدَهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑی محرومی ہے کہ آدمی اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے۔
حدیث نمبر: 8999
عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَسْحَقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔
حدیث نمبر: 9000
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9001
عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأُمِّهِ أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ أُوصِي امْرَأً بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ فِيهِ أَذَاةٌ تُؤْذِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خداش بن سلامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔
حدیث نمبر: 9002
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ باپ پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے، محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن بچے کے سلسلے میں جو شفقت بھری خدمات ماں کو سر انجام دینا پڑتی ہیں، وہ کسی کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہیں۔ نوماہ تک حمل کی صعوبتیں،ولادت کے کٹھن مراحل، بچے کو اپنی چھاتی سے خوراک مہیا کرنا، دن رات اس نگہداشت اور صفائی ستھرائی کے حقوق ادا کرنا، اس کی تکلیف پر بے چین ہو جانا اور بچے کی ہر قسم کی تکلیف کو رفع کرنے میں اپنا سکون سمجھنا، جبکہ ہر مرحلے میں ماں شفقت کرتی ہے، بوجھ نہیں سمجھتی، اللہ اکبر۔ اگر رات کی گہری نیند والی گھڑیوں میں بچہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے تو جو ہستی بچے کے مطالبے کو پورا کرنے میں اپنا سکون سمجھے گی، اسی کو ماں کہتے ہیں۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 9003
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ إِلَّا قَوْلَهُ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔
حدیث نمبر: 9004
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ مَوْلَاهُمْ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ بَعْدَ مَوْتِهِمَا أَبَرُّهُمَا بِهِ قَالَ نَعَمْ خِصَالٌ أَرْبَعَةٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا فَهُوَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ بِرِّهِمَا بَعْدَ مَوْتِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … وعدوں کو نبھانے سے مراد یہ ہے کہ اگر والدین نے کسی سے مدد کرنے یا کوئی اور نیکی کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو اس کونبھانا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ أَوْ أَبُوهُ أَوْ كِلَاهُمَا قَالَ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يُطِيلُهَا فَصَلَّى مَا بَيْنَ الظَّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبَرَّ وَالِدَيْكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ أَوِ اتْرُكْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … سوغلاموں کی آزادی کی نذر ماننے سے اس کا مقصود والدین کو ڈرانا تھا تاکہ وہ طلاق کا حکم دینے سے باز آ جائیں، لیکن معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا۔
حدیث نمبر: 9006
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَيْضًا قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَقَالَ لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 9007
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّامِ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ قَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْ قَالَ فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
حدیث نمبر: 9008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ طَلِّقْ امْرَأَتَكَ فَطَلَّقَهَا (وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا) فَقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت، نفس کی خواہش پر مقدم ہے، جب ان کا حکم دین کے زیادہ موافق نظر آ رہا ہو، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندی کی وجہ عورت کی قلت ِ دین ہو گی۔
اس حدیث میں والدین کی اطاعت کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا: یہ واضح دلیل تقاضا کرتی ہے کہ جب باپ اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دے تو وہ ان کے حکم پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اگرچہ اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو، کیونکہیہ محبت والدین کے حکم کے سامنے عذر نہیں بن سکتی، اس حدیث میںصرف باپ کا ذکر ہے، لیکن ماں کے حکم کی بھییہی حیثیت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری حدیث میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ بیٹے پر اس کے باپ کی بہ نسبت اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔(تحفۃ الاحوذی) ہاں اگر والدین کے حکم کی بنیاد دینی و اخلاقی بنیادوں پر نہ ہو تو ادب و احترام سے ان کو سمجھایا جائے تاکہ وہ بھی راضی ہو جائیں اور خواہ مخواہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو، وگرنہ والدین کے حکم کو بیوی پر ترجیح دے کر اس کو رخصت کر دیا جائے۔
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنے بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔
اس حدیث میں والدین کی اطاعت کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا: یہ واضح دلیل تقاضا کرتی ہے کہ جب باپ اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دے تو وہ ان کے حکم پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اگرچہ اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو، کیونکہیہ محبت والدین کے حکم کے سامنے عذر نہیں بن سکتی، اس حدیث میںصرف باپ کا ذکر ہے، لیکن ماں کے حکم کی بھییہی حیثیت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری حدیث میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ بیٹے پر اس کے باپ کی بہ نسبت اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔(تحفۃ الاحوذی) ہاں اگر والدین کے حکم کی بنیاد دینی و اخلاقی بنیادوں پر نہ ہو تو ادب و احترام سے ان کو سمجھایا جائے تاکہ وہ بھی راضی ہو جائیں اور خواہ مخواہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو، وگرنہ والدین کے حکم کو بیوی پر ترجیح دے کر اس کو رخصت کر دیا جائے۔
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنے بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 9009
عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض رضی اللہ عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔
وضاحت:
فوائد: … والدین کے حق کو واضح کرنے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے سوال دوہرایا گیا۔
حدیث نمبر: 9010
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَدِمَتْ أُمِّي (وَفِي لَفْظٍ أَتَتْنِي أُمِّي) وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
حدیث نمبر: 9011
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي فِي مُدَّةِ قُرَيْشٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمُ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) مُشْرِكَةً وَهِيَ رَاغِبَةٌ يَعْنِي مُحْتَاجَةً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ صِلِي أُمَّكِ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا کہ اگر والدین کافر اور مشرک ہوں، تب بھی وہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْم’‘ فَـلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔ (سورۂ لقمان: ۱۵)
غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حدیث نمبر: 9012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا مَرَّ عَلَيْهِ وَهُمْ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَلَسْتَ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ قَالَ بَلَى قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَى حِمَارٍ كَانَ يَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رَاحِلَتَهُ وَعِمَامَةٍ كَانَ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَدَفَعَهَا إِلَى الْأَعْرَابِيِّ فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَهُ بَعْضُنَا انْطَلَقْتَ إِلَى حِمَارِكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَتِكَ الَّتِي كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ فَأَعْطَيْتَهُمَا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ وَإِنَّمَا كَانَ يَرْضَى بِدِرْهَمٍ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جانا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔
حدیث نمبر: 9013
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدَيْكَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘
حدیث نمبر: 9014
(عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی کمائی میں والدین کا حق ہے، لیکن اس ضمن میں درج ذیل روایت مد نظر رکھنا ضروری ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُورَ} [الشوری:۴۹] فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) … بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} (سورۂ شوری: ۴۹) وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب تمھیں ان کی ضرورت پڑے۔ (حاکم:۲/۲۸۴، بیہقی:۷/۴۸۰، صحیحہ: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
معلوم ہو اکہ یہ جائز نہیں ہے کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا کر سکتا ہے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
معلوم ہو اکہ یہ جائز نہیں ہے کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا کر سکتا ہے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۶۴)