کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
حدیث نمبر: 8985
عَنْ وَابِصَةَ يَعْنِي ابْنَ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ فَقَالُوا إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ دَعُونِي فَأَدْنُوَ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَقَالَ دَعُوا وَابِصَةَ ادْنُ يَا وَابِصَةُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ أَوْ تَسْأَلُنِي قُلْتُ لَا بَلْ أَخْبِرْنِي فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ نَعَمْ فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَيَقُولُ يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8985
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل الزبير ابي عبد السلام، ثم ھو منقطع بينه و بين ايوب، أخرجه الدارمي: 2533، وابويعلي: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18169»
حدیث نمبر: 8986
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ فَقَالَ الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو، بلکہ شک وشبہ سا پیدا ہو رہا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا وہم پڑ رہا ہو تو اس کو ترک کر دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8986
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18162»
حدیث نمبر: 8987
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي وَيُحَرَّمُ عَلَيَّ قَالَ فَصَعَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَوَّبَ فِي النَّظَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ وَقَالَ لَا تَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔
وضاحت:
فوائد: … مطلع ہونے والے لوگوں سے مراد معاشرے کے وہ باوقار اور فاضل لوگ ہیں، جن سے شرم محسوس کی جاتی ہے۔
بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔ ان احادیث ِ مبارکہ میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہییا اتنا شعور یا اتنا ذوق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکییا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ علامہ عبیداللہ مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں،یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے۔ ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوییا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا ہے اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ وہ تو کوئی فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیکیا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اسی خصلت میں پنہاں نہیں ہے۔
عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کو سمجھیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تقاضے پورے کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8987
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 585 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17894»
حدیث نمبر: 8988
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8988
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 2389 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17783»