کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8959
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ رَقَبَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ قَالَ لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے آدمی اپنے زبان کا غلط استعمال نہ کرے، کیونکہ اگر کسی آدمی میں کوئی عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو یہ تواس کے بس کی بات ہے کہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے، ہاں اگر خیر کی بات ہو تو وہ کرے۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگوں بڑے بڑے عمل تو کرسکتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگوں بڑے بڑے عمل تو کرسکتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
حدیث نمبر: 8960
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جَهْدُ الْمُقِلِّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کی یہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ و سالم رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 8961
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُرِيقَ دَمُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْمُوجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور جس کا خون بہا دیا جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نا پسندیدہ امور کو ترک کر دیا۔ اس نے کہا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میںیا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 8962
عَنْ مَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ثُمَّ الْجِهَادُ ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، پھر جہاد کرنا، پھر حج مبرور، یہ عمل تو باقی اعمال سے اس طرح فضیلت لے جاتا ہے، جیسے سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 8963
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر کوئی شرط لگاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نمازیں ادا کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور کافرسے بری ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 8964
عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کے ہاں سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمت والی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: تو کسی ہنر مند کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے، جبکہ آج بڑی بڑی نیکیوں کا دعوی کرنے والے اس کم سے کم مرتبے سے محروم ہیں۔
حدیث نمبر: 8965
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ فَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ … ۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 8966
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا بَلَى قَالَ الرَّجُلُ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا، اس کی مفصل حقیقت جاننے کے لیے ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۳۵۵۲)
حدیث نمبر: 8967
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
حدیث نمبر: 8968
عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ شفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہا ، جو کہ مہاجر صحابیات میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 8969
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 8970
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى الْجَدْعَاءِ وَاضِعٌ رِجْلَهُ فِي غَرْزِ الرَّحْلِ يَتَطَاوَلُ يَقُولُ أَلَا تَسْمَعُونَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ مَا تَقُولُ قَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ قُلْتُ فَمُذْ كَمْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ يَا أَبَا أُمَامَةَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سُلیم بن عامر سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدعاء اونٹنی پر سوار تھے، اپنا پاؤں رکاب میں رکھا ہوا تھا اور کھڑے ہو کر اونچے ہوئے اور فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ لوگوں کے پیچھے سے ایک آدمی نے کہا: آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے پروردگار کی عبادت کرو، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! تم نے یہ حدیث کب سنی تھی؟ انھوں نے کہا: اس وقت سنی تھی، جب میری عمر تیس سال تھی۔
حدیث نمبر: 8971
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ) وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میں یا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ، صدقہ کرنے والے کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ منافق عدمِ ایمان کی وجہ سے صدقہ و خیرات سے اجتناب کرتا ہے۔
جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔
ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔
ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
حدیث نمبر: 8972
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا بَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَلَانَ الْكَلَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے اندر سے ان کے باہر کے سماں کو اور باہر سے ان کے اندر کے منظر کو دیکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اِن کو ان کے لیے تیار کیا ہے، جو کھانا کھلاتے ہیں، نرم کلام کرتے ہیں، تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اس وقت نماز پڑھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آخر میں رات کے قیام کا بیان ہے۔
حدیث نمبر: 8973
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جو نرم کلام کرتا ہے، کھانا کھلاتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے قیام کرتے ہوئے رات گزارتا ہے، جبکہ اس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8974
وَعَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا ہو، سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 8975
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ قَالَ احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اگر مجھ میں اتنا کچھ کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کو شرّ سے روکے رکھنا، کیونکہ یہ بھی صدقہ ہو گا جو تو اپنے نفس پر کرے گا۔
حدیث نمبر: 8976
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمَضَانَ (وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا) كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ قَالَ ذَرِ النَّاسْ يَا مُعَاذُ فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَةٍ مِائَةُ سَنَةٍ الْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازیں ادا کیں، حرمت والے گھر کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، وہ اس کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی علاقے میں سکونت اختیار کیے رکھے، جس میں پیدا ہوا تھا۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا تھا یا نہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس حدیث کی خبر دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاذ! رہنے دو اور لوگوں کو نہ بتلاؤ (تاکہ وہ دوسرے نیک عمل بھی کرتے رہیں) کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فرق ہے، جنت کا سب سے اعلی اور ممتاز درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک خوبصورت نقطے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ جتنی احادیث میں آسان عمل پر بڑے اجرو ثواب کی بشارتیں بیان کی گئی ہے، ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے نیک اعمال سے غفلت برتی جائے، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوا کہ اس حدیث کا علم بھی ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاص مصلحت کی وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے منع فرمایا تھا۔
جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔
جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔
حدیث نمبر: 8977
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّوْمُ قَالَ فَرْضٌ مَجْزٍ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصَّدَقَةُ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلًا قَالَ آدَمُ قُلْتُ وَنَبِيًّا كَانَ قَالَ نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمِ الْمُرْسَلُونَ قَالَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ وَقَالَ مَرَّةً وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [سورة البقرة: ٢٥٥] (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ پس میں نے نماز پڑھی اور پھر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کے بارے میں کچھ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز ہے، جس کو بنایا گیا ہے، جو چاہے کم پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ پڑھ لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روزہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا فرض ہے کہ اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید بھی بہت کچھ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر یا کسی فقیر کو چپکے سے دے دینا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرسلین کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو اور پندرہ سولہ کے لگ بھگ۔ ایک روایت میں ہے: تین سو پندرہ ہے، جم غفیر ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر کون سی عظیم ترین چیز اتاری گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری آیت تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … بعض انسان شیطان ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ ناس میں بھی ہے، جو آدمی دوسرے کو گمراہ کرے، وہ شیطان ہے۔
انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم: ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم: ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
حدیث نمبر: 8978
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَصَلَّى وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي فَنَعِسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي يَا رَبِّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي يَا رَبِّ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ وَجُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَنْدَ الْكَرِيهَاتِ قَالَ وَمَا الدَّرَجَاتُ قُلْتُ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ سَلْ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح کو نماز فجر سے اتنی دیر تک رکے رہے کہ قریب تھا کہ سورج کا کنارہ نظر آ جاتا، بہرحال پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی جلدی تشریف لائے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختصر سی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرا تو فرمایا: جیسے ہو، اپنی صفوں پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ آج صبح کس چیز نے مجھے روکے رکھا، میں رات کو کھڑا ہوا اور جتنی نصیب میں تھی، نماز پڑھی، ابھی میں نماز میں ہی تھا کہ اونگھ آگئی، پھر جب بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے ربّ تعالیٰ کے سامنے ہوں، اللہ تعالیٰ بہت ہی خوبصورت شکل میں تھے، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کن امور میں بحث مباحثہ کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے پھر کہا: مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھے تو علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، مجھے اپنے سینے میں اس کے پوروں کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور ہر چیز میرے لیے واضح ہو گئی اور مجھے معرفت حاصل ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! (اب بتاؤ کہ) مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات میں، اس نے کہا: کفّارات کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند امور کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: درجات کیا ہیں؟ میں نے کہا: کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا اور اس وقت نماز ادا کرنا، جب لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: سوال کرو، میں نے کہا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فَعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکی کے کام نیکیاں کرنے، برائیوں کو ترک کرنے، مسکینوں سے محبت کرنا، مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا اور میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت کااور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حق ہے، لہٰذا اس کو سیکھو اور سکھاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
حدیث نمبر: 8979
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدْوَةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} [سورة الأنعام: ٧٥] ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَيِّبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سفیدی یا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدی یا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم ( علیہ السلام ) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ کے متن پر غور کریں اور اندازہ لگائیں کہ جن اعمال کی ہمارے معاشرے میں کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنے اہم ہیں۔ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ہوئی تو جہانوں کے پروردگار اور بشریت کے سردار کی باتوں کا موضوع کیا تھا، یہ کتنی پاکیزہ مجلس تھی،یہ کتنا بابرکت کلام تھا، یہ سوالات و جوابات کی کتنی عمدہ نشست تھی، سبحان اللہ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان دو احادیث میںجن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو حرزِ جان بنائیں اور ان پر دوام اختیار کریں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
حدیث نمبر: 8980
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَرَأَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [سورة السجدة: ١٦] الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے خیر و بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتلاتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے اور رات کو بندے کا قیام کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ … }۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیہ ہے: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔} … ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۂ سجدہ: ۱۶)
حدیث نمبر: 8981
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَنْتَ مُحَمَّدٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِلَامَ تَدْعُو قَالَ أَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ مَنْ إِذَا كَانَ بِكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ قَالَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ قَالَ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا أَوْ قَالَ أَحَدًا شَكَّ الْحَكَمُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) قَالَ فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا بَعِيرًا وَلَا شَاةً مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزْهَدْ فِي الْمَعْرُوفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْهِكَ إِلَى أَخِيكَ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ وَأَفْرِغْ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَاتَّزِرْ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ قَالَ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،یا اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں یا آپ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس یکتا و یگانہ رب کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر تجھ پر کوئی تکلیف آ پڑے گی اور تو اس کو پکارے گا تو وہ تیری تکلیف کو دور کر دے گا، جب تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیرے لیے انگوریاں اگانے کے لیے (بارش نازل کرے گا)اور جب تو بے آب و گیاہ زمین میں اپنی سواری کھو بیٹھے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیری سواری کو واپس تیرے پاس لے آئے گا۔ پس وہ آدمی مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دینا، (یعنی برا بھلا نہ کہنا)۔ اس آدمی نے کہا: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی اس وقت سے میں نے کسی چیز، وہ اونٹ ہو یا بکری، کو گالی نہیں دی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی سے بے رغبتی اختیار نہ کر، اگرچہ وہ اپنے بھائی سے بات کرتے وقت اس کے سامنے خندہ پیشانی کا اظہار کرنے کی صورت میں ہو، پانی مانگنے کے ڈول میں پانی ڈال اور نصف پنڈلی تک اپنے ازار کو اٹھا کے رکھ، پس اگر تو اس قدر عمل نہ کر سکے تو ٹخنوں تک رکھ لے، خبردار چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچنا ہے، کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَکَ وَعَیَّرَکَ بِمَا یَعْلَمُ فِیکَ فَـلَا تُعَیِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِیہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ۔)) … اور اگر کوئی آدمی تجھے برا بھلا کہے اور تیرے کسی عیب کی وجہ سے تجھے عار دلائے تو تو نے اس کو اس عیب کی وجہ سے عار نہیں دلانی جو تو جانتا ہے، کیونکہ اس چیز کا وبال اس پر ہو گا۔
اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔
چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔
چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
حدیث نمبر: 8982
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہ یہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف پر ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مأمورات پر عمل کیا جائے اور منہیات سے اجتناب۔
حدیث نمبر: 8983
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَالَ أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ وَتُعْطِيَ مَنْ مَنَعَكَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تو اس سے صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس کو دے جو تجھ کو محروم کرے اور اس سے درگزر کر جو تجھے گالیاں دے۔
حدیث نمبر: 8984
عَنْ شَيْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ فَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیں یہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میںمختلف نیکیوں اور برائیوں کا ذکر ہوا ہے، قارئین الفاظ سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود سمجھ سکتے ہیں، اس لیے زیادہ شرح نہیں کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فہم و عقل کی روشنی میں معمولی اور غیر معمولی حسنات و سیئات کا تعین نہ کریں، بلکہ شریعت کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔