کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8931
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام میں کوئی رخصت دی، لیکن بعض لوگوں نے اس کو قبول کرنے سے گریز کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غصے ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کر رہے ہیں، جس میں مجھے (بھی) رخصت دی گئی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت رکھنے والے اور اس معرفت کے تقاضے پورے کرنے والے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام افعال و اعمال و اقوال سر آنکھوں پر۔ یہ خطرناک چیز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رخصت دیں اور لوگ اس کے بارے میں تردّد میں پڑ جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8931
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6101، 7301، ومسلم: 2356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24683»
حدیث نمبر: 8932
عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ كُلَّ خَمِيسٍ أَوْ اثْنَيْنِ الْأَيَّامَ قَالَ فَقُلْنَا أَوْ فَقِيلَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَنُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَوَدِدْنَا أَنَّكَ تُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي لَأَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات یا سوموار کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! ہم آپ کی گفتگو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ و نصیحت کریں، جواب میں سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ میں تمہیں اکتا دینے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت سے تمہاری ایسے ہی نگہداشت کرتا ہوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8932
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 70، ومسلم: 2821 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4439»
حدیث نمبر: 8933
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ فَجَاءَنَا فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَيُذَكِّرُ لِي مَكَانَكُمْ فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز خطاب نہیں کرتے تھے، بلکہ وعظ و نصیحت کے معاملے میں سامعین کی دلچسپی اور اکتاہٹ کا خیال رکھتے تھے، موجودہ دور کے مُصلح حضرات اور واعظین اس قسم کی مصلحت اور دانائی کا لحاظ نہیں کرتے اور پھر عوام سے یہ شکوہ رکھتے ہیں کہ شرعی مسائل سننے میںدلچسپی نہیں رکھتے۔
اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔
لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8933
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 68، 6411، ومسلم: 2821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3587»