کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8905
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَهَا عَمَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلَكِ قَالَتْ خَيْرُ الرِّجَالِ أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَعَذَمَنِي وَعَضَّنِي بِلِسَانِهِ فَقَالَ أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَهَا وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَانِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ((أَتَصُومُ النَّهَارَ)) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ((وَتَقُومُ اللَّيْلَ)) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ((لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَمَسُّ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي)) قَالَ ((اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ)) قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ ((فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ)) قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَحَدُهُمَا إِمَّا حُصَيْنٌ وَإِمَّا مُغِيرَةُ ((فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ)) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ ((فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ)) قَالَ ثُمَّ قَالَ ((صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ)) قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ ((صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)) قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَإِنَّ لِكُلِّ عَابِدٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى بِدْعَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ)) قَالَ مُجَاهِدٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَيْثُ قَدْ ضَعُفَ وَكَبِرَ يَصُومُ الْأَيَّامَ كَذَلِكَ يَصِلُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ لِيَتَقَوَّى بِذَلِكَ ثُمَّ يُفْطِرُ بَعْدَ تِلْكَ الْأَيَّامِ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ حِزْبٍ كَذَلِكَ يَزِيدُ أَحْيَانًا وَيَنْقُصُ أَحْيَانًا غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ إِمَّا فِي سَبْعٍ وَإِمَّا فِي ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَوْ عَدَلَ لَكِنِّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور میری خوب ملامت کی اور مجھے برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔
وضاحت:
فوائد: … تلاوت کی وہ مقدارجس کو ہر رات کو پڑھنے کا معمول بنایا جائے، اس کو حزب کہتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید ختم نہیں کیا جا سکتا اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کو ان کی مصلحتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه نحوه دون ذكر القراء ة والشرة، وقوله واصوم و افطر البخاري: 1980، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6477»
حدیث نمبر: 8906
عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ)) قَالُوا وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک صورتحال یہ ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ صحابہ نے کہا: اور نہ آپ کو اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ عذاب سے نجات اور اجر و ثواب کے ساتھ کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل و کرم پر ہے، عامل کے عمل کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کا ثواب دینا اللہ تعالیٰ پر فرض ہو گیا ہے اور وہ بندے کا ایسا حق بن گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ادا کرنا پڑے گا، جبکہ عمل کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور اس کے اسباب بھی اسی نے مہیا کیے تھے، دراصل نیکی کا اجرو ثواب محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْب’‘ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} … اور تم خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارو، بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ (الاعراف: ۵۶)
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔
اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2817 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14682»
حدیث نمبر: 8907
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْتَصِبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشَرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شَرَّةٌ وَلِكُلِّ شَرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمِّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ فَذَلِكَ هُوَ الْهَالِكُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ میں سے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو بڑی سختی سے عبادت کرنے میں گڑ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا چسکہ، شدت اور حرص ہے اور ہر چسکے کی حرص اور اس میں افراط ہوتا ہے، لیکن ہر افراط کے بعد سستی اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ کتاب و سنت کی طرف ہوا اس نے سیدھے راستے کا قصد کیا اور جس کی سستی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف ہوئی تو وہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ مزید ایک روایتیہ ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِلإِْسْلَامِ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَإِنْ کَانَ صَاحِبُھُمَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ، وَإِنْ أُشِیْرَ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ فَـلَا تَرْجُوْہُ۔)) … اسلام کے لیےحرص، شدت اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے بعد سکون اور تھماؤ ہوتا ہے، (دیکھو) اگر نیک کام کی رغبت رکھنے والا راہِ صواب پر چلتا ہے اور میانہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے بارے میں امید رکھو (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو گا) اور اگر (وہ عبادت میں اس قدر غلو کرے کہ) اس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارے کیے جائیں تو اس کے بارے میں امید نہ رکھو (کہ وہ نیک آدمی ہو گا)۔ (ترمذی: ۲۴۵۵،صحیحہ:۲۸۵۰)
اگر کسی شخص کو دین اسلام کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ صاحب ِ دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ حیات کو اسوۂ حسنہ قرار دے اور افراط و تفریط سے بچے۔
اور ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہوتی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میںمبالغہ کرنے والا بالآخر سست پڑ جاتا ہے، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہے: ۱ … نیک لوگ، جو اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں، بالخصوص ماں باپ، اہل و عیال اور اعزہ واقارب کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، ان کے معاملات میں تسلسل اور استقامت ہوتی ہے، ان کی عبادات میں اس قدر کثرت نہیں پائی جاتی کہ وہ اس بنا پر مشہور ہو جائیں، عام طور پر ایسے لوگ پرخلوص ہوتے ہیں اور اپنی مراد پر فائز ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں اچھی امید رکھنی چاہیے۔
۲ … اس کے برعکس کچھ لوگ عبادت اور نیکی میں اس قدر افراط اور غلو کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں، سب لوگوں میں ان کا بڑا شہرہ ہونے لگتا ہے کہ فلاں بڑا عابد و زاہد، درویش ِ کامل اور عالم و فاضل ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ مکّار اور ریاکار نکلتے ہیں، ان کی غرض شہرت اور ناموری ہوتی ہے، افراط و تفریط میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بیوی بچوں اور ماں باپ کے حقوق پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ خلاف ِ سنت ہے۔
اس میں جاہل درویشوں کا ردّ ہے، جو رات دن مراقبے اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سخت سخت ریاضت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو شریعت کا پابند ٹھہرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل کا اور جہاں تک ہو سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپنے اعمال کو مخفی رکھنا چاہیے۔ ہر وقت یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے، ہمارے ماحول میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ لوگ حقوق اللہ کا بہانہ کر کے بندوں کے حقوق سے غفلت برت رہے ہیں اور کچھ حقوق العباد کابہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہیں۔
بعض نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی خطیب کے خطاب یا کسی نیکوکار کی مجلس سے متاثر ہو کر عملی طور پر اسلام کی طرف راغب ہوتے ہے اورہفتہ عشرہ تک ان کا عمل جاری رہتا ہے، پھر ان پر غفلت اور سستی کاحملہ ہوتا ہے اور مزاج یکسر بدل جاتا ہے، اس وقت ان کے لیے انتہائیضروری ہوتا ہے کہ وہ عبادت کی روٹین کو برقرار رکھ کر شیطان کا مقابلہ کریں،یہاں تک کہ دوبارہ پھر رغبت پیدا ہوئے، یہ رغبت ان شاء اللہ دائمی ہو گی، جو لوگ غفلت والے اس پیریڈ میں اپنی روٹین کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی عبادات میں کبھی تسلسل اور دوام نہیں آ سکتا، بلکہ وہ اپنی انسانیت کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8907
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن،أخرجه الطبراني في الكبير ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6540»
حدیث نمبر: 8908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کی تکلیف اٹھاؤ، جس کی تم کو طاقت ہے، پس بیشک بہترین عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … تھوڑی مقدار والے قلیل عمل پر دوام اختیار کرنا، اس بڑی مقدار والے عمل سے بہتر اور افضل ہے، جس پر ہمیشگی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4240 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8584»
حدیث نمبر: 8909
عَنْ أَبِي صَالِحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتَا مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو صالح کہتے ہیں؛ سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا، انھوں نے کہا: جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24544»
حدیث نمبر: 8910
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِّثِينِي بِأَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے ایسا عمل بیان کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہو، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پسندیدہ وہ عمل تھا، جس پر آدمی ہمیشگی کرے، اگرچہ اس کی مقدار کم ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25330»
حدیث نمبر: 8911
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ ((مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری پاس تشریف لائے تو اس وقت میرے پاس فلاں خاتون بیٹھی ہوئی تھی، میں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تم اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے پسند یدہ دین وہ ہے، جس پر آدمی ہمیشگی اختیار کرے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ خاتون سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا تھیں۔
اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8911
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري43، ومسلم: 785 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24749»
حدیث نمبر: 8912
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ خاتون رات کو بہت زیادہ نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آنے لگتی ہے تو یہ اپنے آپ کو ایک رسی کے ساتھ باندھ کر لٹکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو طاقت ہو، یہ نماز پڑھے، لیکن جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26840»
حدیث نمبر: 8913
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ((مَا هَذَا)) فَقَالُوا لِزَيْنَبَ فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ فَقَالَ ((حُلُّوهُ)) ثُمَّ قَالَ ((لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ)) وَفِي لَفْظٍ ((لَتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ وہاں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ سست پڑتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھول دو، چاہیےیہ کہ آدمی پھرتی اور مستعدی کی حالت میں نماز پڑھے، جب وہ سست پڑ جائے تو قیام ترک کر دے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو سمجھ آ رہی ہو، نماز پڑھے اور جب وہ (نیند کی وجہ) مغلوب ہو جائے تو سو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان پر جسم کا بھی حق ہے، اس کو بھی سکون ملنا چاہیے، لیکن اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے رات کے قیام کا اہتمام نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1150، ومسلم: 784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12009»
حدیث نمبر: 8914
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ((لِمَنْ هَذَا)) قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ ((لَتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی رسی دیکھی اور پوچھا: یہ کس کی ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے) عاجز آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھے، پس جب وہ عاجز آ جائے تو (نماز ترک کر کے) بیٹھ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8914
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 3831 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12946»
حدیث نمبر: 8915
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا)) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ} [المعارج: 23]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کا اہتمام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا، حتیٰ کہ تم نہیں اکتا جاؤ گے۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ وہ نماز پسند تھی کہ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ لوگ جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ہمیشگی والا عمل، یہی وہ خصلت ہے، جس کی وجہ سے خالق ومخلوق کے مابین تعلق میں مضبوطی آتی ہے اور عبادت میں شیرینی اور لذت محسوس ہوتی ہے، اس وقت مسلمان کلی طور پر ایسے اعمال سے غافل ہیں، الا ما شاء اللہ، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات ہماری روٹین کی محتاج ہیں، اگر وقت ملا تو نماز کا اہتمام ہو گا، اگر رات کو سونے میں دیر ہو گئی تو فجر کی نماز کو داؤ پر لگا دیا جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ نمازِ فجر کی خاطر رات کو جلدی سو جائیں، مغرب کی ایک، دو یا تین رکعتیں رہ جائیں، ہم پہلے پرتکلف افطاری کرتے ہوئے خوب کھائیں گے، اگر بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے بعد کچھ بچا تو غریب کو دیا جائے گا، اگر اپنے گھر کی الجھنوں سے نکلے تو تب ہمسائے کا حق ادا کیا جائے گا، اگر سکول کی تعلیم سے وقت بچا تو تب بچے کو قرآن مجید پڑھایا جائے گا، ہماری زندگی کا ہر شعبہ ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ کاش ہم اسلام کو اصل سرمایہ سمجھ لیتے،دین پر چلنا بھی آسان ہو جاتا اور دنیا بھی ہماری تابع ہو جاتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5861، ومسلم: 782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25047»
حدیث نمبر: 8916
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكَافِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکم بن حزن کافی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بیشک تم کو جن جن امور کا حکم دیا گیا ہے، تم سب کی ہر گز طاقت نہیں رکھ سکتے، البتہ راہِ صواب پر چلتے رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8916
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابويعلي: 6826، وابن خزيمة: 1452، والبيھقي: 3/ 206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18011»
حدیث نمبر: 8917
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنَ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو عمل کا حکم دیتے تو اتنا حکم فرماتے، جس کی وہ طاقت رکھتے، لیکن جب وہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول! بیشک ہم توآپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہو جاتے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں غصے کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث میں ایک مثال بیان ہو چکی ہے۔
قارئین ِ کرام!دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، یہ بات اس دین کے شایانِ شان نہیں ہے کہ خیال آ گیا تو اجر و ثواب کے بڑے بڑے کام کر دیئے اور خیال نہ آیاتو بے رخی اختیار کر لی، سنجیدگی کے ساتھ ساتھ بڑی مصلحت اور حکمت کی بھی ضرورت ہے، اس ضمن میں مساجد کے ائمہ و خطباء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان سے
گزارش ہے کہ وہ اپنے منصب کو سمجھیں اور اپنے ارد گرد رہنے والے ہر فرد پر نظر رکھیں اور اس کی صلاحیت کے مطابق اس کی رہنمائی کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں، بسا اوقات ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی اطاعت کا بڑا عمل سر انجام دینا چاہتا ہو، لیکن حالات و واقعات کو دیکھ اہل علم حکمت و بصیرت سے کام لیں اور غور کریں کہ اس آدمی کو اس عمل سے روکنا بہتر ہے یا نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحابہ کو بعض اعمال صالحہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8917
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 20 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24793»
حدیث نمبر: 8918
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دین مضبوط ہے، تم اس میں نرمی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ایک آدمی میں کسی تقریریا ذاتی مطالعہ کی وجہ سے تلاوت کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اس کو چاہیے کہ ایک ایک پاؤ یا نصف نصف پارے کی تلاوت سے اپنے عمل کا آغاز کرے، پھر مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھاتا جائے، اگر کسی آدمی میں ہمسائیوں کے حقوق کے پورا کرنے کی رغبت پیدا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک گھر والوں کے حقوق ادا کر کے اپنی رغبت کو برقرار رکھے، پھر آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت اور وقت کے مطابق اس سلسلے کو آگے بڑھائے۔ ہر عبادت کے بارے میں یہی قانون ہے، ما سوائے فرض عبادات کے۔ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ جب لوگوں میں کسی نہ کسی طرح رغبت پیدا ہو جاتی ہے تو اتنی بڑی مقدار میں عمل شروع کرتے ہیں کہ چوتھے پانچویں موقعہ پر بوریت اور اکتاہٹ میںمبتلا ہو کر مکمل عمل کو ترک کر دیتے ہیں۔
قارئین کرام! آپ غور کریں گے کہ ماہِ رمضان کے شروع ہوتے ہی لوگوں میں اعمال صالحہ کی بڑی رغبت پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر پانچ نمازوں اور نمازِ تراویح کی، لیکن رمضان کی پانچ چھ تاریخ تک اکثر لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں میں وہ رغبت ختم ہو چکی ہوتی ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟ یہی کہ نرمی کے ساتھ رسوخ حاصل نہیں کیا جاتا، لوگ اچانک اعمالِ صالحہ کی بڑی مقدار پر حملہ تو کر دیتے ہیں، لیکن ان کی طبیعت اور فطرت اس قدر اہل نہیں ہوتی کہ وہ ان کا ساتھ دے، سو چار پانچ دنوں کے بعد وہی گندی فطرت غالب آجاتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے لوگوں پر مایوسی چھا گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شامل حال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13083»
حدیث نمبر: 8919
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَعْرَابِيٍّ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک بدو سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16032»
حدیث نمبر: 8920
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ آخِذًا بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ ((إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے اور میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو، بیشک تمہارا خیر والا دین وہ ہے، جس میں زیادہ آسانی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر دینِ اسلام کے تمام احکام پر نگاہ ڈالی جائے تو یہی نظر آئے گا کہ کسی معاملے میں کوئی مشقت نہیں ہے، یہ دین صرف آسانی والا نہیں ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے سے جسم اور روح کو تسکین ملتی ہے، پہلے ادیان میں پائی جانے والی سختیاں اس دین میں نہیں ہیں۔
قارئین کرام! لیکنیہ آسانی وہ شخص تسلیم کرے گا، جو سلیم الفطرت ہو گا اور دین پر عمل کرنے کا متمنی ہو گا، آخر اسی دین میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے، اس لیےیہ کوئی حلوے کا لقمہ تو نہیں ہو گا کہ ہر کھانے والا جس کو آسانی اور لذت کے ساتھ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ اس دنیائے فانی میں جس آدمی نے آمدنی کا جو ذریعہ اختیار کر رکھا ہے، وہ اس کو آسان سمجھتا ہے، کاروبار کے لیے روزانہ دس بارہ بارہ گھنٹے مصروف رہنا، ساتھ ساتھ کھاتے بنانے، کسی کو سنانا، کسی کی سننا، پڑھانے والے لوگوں کا تین تین چار چار یا پانچ چھ چھ پیریڈ پڑھانا، زمینداروں کا سخت محنت کرنا، کارخانوں اور صنعتوں میںکام کرنے والے لوگ، رات کی ڈیوٹیاں، پورا دن رات گاڑیوں کے ساتھ مصروف رہنے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر …، غرضیکہ ہر کوئی بڑے شوق کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے، اسی طرح نماز پڑھنے والوں کے لیے نماز آسان ہے، حج کرنے والوں کے لیے حج آسان ہے، روزہ رکھنے والوں کے روزے آسان ہیں، صدقہ و زکوۃ کے خواہشمندوں کے لیےیہ عمل آسان ہے، جہاد کرنے والوں کے لیے جہاد آسان ہے، خو ش مزاج لوگوں کے لیے خوش رہنا آسان ہے … علی ہذا القیاس۔ جو آدمی کسی شرعی رکن کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، دراصل اس کے مزاج میں نحوست اور فساد آ چکا ہے اور شیطان اس پر اس قدر غالب آ چکا ہے کہ دین اسلام کے ارکان کی ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8920
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 1295، والطبراني في الكبير : 20/ 704 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20617»
حدیث نمبر: 8921
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتُرَاهُ يُرَائِي)) فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا وَيَقُولُ ((عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ)) وَفِي لَفْظٍ فَأَرْسَلَ يَدِي ثُمَّ طَبَقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَجَمَعَهُمَا وَجَعَلَ يَرْفَعُهُمَا بِحِيَالِ مَنْكَبَيْهِ يَضَعُهُمَا وَيَقُولُ ((عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ الدِّينَ يَغْلِبْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن کسی ضرورت کے لیے نکلا، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ہم دونوں اکٹھے چلنے لگے، اچانک ہم نے اپنے سامنے ایسا آدمی دیکھا جو بہت زیادہ رکوع و سجود کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں تیرایہ خیال ہے کہ وہ ریاکاری کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے اوپر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میانہ روی والا طریقہ لازم پکڑو، اعتدال والے انداز کا اہتمام کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں میں تطبیق دے کر ان کو اکٹھا کیا اور پھر ان کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے اور پھر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگا: میانہ روی والے طریقے کو لازمی پکڑو، تین دفعہ فرمایا، کیونکہ جو آدمی زور آمائی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنی طاقت سے بڑھ کر اور تکلف کر کے نیک عمل کرے گا، وہ بالآخر عمل کی کمی کرے گا اور فرائض تک کو چھوڑ بیٹھے گا۔
اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ چلنے کا طریقہیہ ہے کہ لوگوں کا تحقیق اور حکمت و بصیرت والے اہل علم سے رابطہ ہو، وہ اپنی اہلیت اور مصروفیت کو دیکھ کر ان سے شریعت کی روشنی حاصل کریں اور اپنے لیے اعمالِ صالحہ کا معتدل سا منہج اختیار کریں، نیز ان کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ جب رغبت زیادہ ہو تو کون سا عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8921
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 312، وابن خزيمة: 1179، والحاكم: 1/312 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23351»
حدیث نمبر: 8922
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالُوا إِنَّهَا تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَمَنِ اقْتَدَى بِي فَهُوَ مِنِّي وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ثُمَّ فَتْرَةً فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بِدْعَةٍ فَقَدْ ضَلَّ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں اور یحییٰ بن جعدہ ایک انصاری صحابی کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنی عبدالمطلب کی ایک لونڈی کا اس طرح ذکر کیا کہ وہ رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اورچھوڑ بھی دیتا ہوں، پس جس نے میری پیروی کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت سے منہ پھیر لیا، وہ مجھ سے نہیں ہے، ہر عمل کی حرص، شدت اور افراط تو ہوتی ہے، لیکن پھر سکون اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ بدعت کی طرف لے جائے گا، وہ گمراہ ہو جائے گا اور جس کا ٹھہراؤ سنت کی طرف لے جائے گا، وہ ہدایت پا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصہ کی وضاحت حدیث نمبر (۸۹۰۷) میں ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1239، والطبراني في الكبير : 2186 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23870»
حدیث نمبر: 8923
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ)) وَكَانَ يَقُولُ ((عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کچھ لوگ بڑی سخت عبادت کیا کرتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں تم میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم اتنے عمل کا اہتمام کرو، جتنے کی طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5861، ومسلم: 782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25425»
حدیث نمبر: 8924
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَيَسِّرُوا فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ)) قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور آسانی پیدا کرو، پس کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا عمل بھی نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی ایسے ہی ہوں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۹۰۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8924
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6464، ومسلم: 2818 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25454»
حدیث نمبر: 8925
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي ((يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ)) قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ ((يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي)) قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ ((فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔
وضاحت:
فوائد: … ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام عبادات اور معاملات کو سامنے رکھا جائے، ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہادی لشکر ترتیب دیتے وقت جہاد میں شرکت کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں، دوسری طرف اس لشکر میںشرکت کے خواہشمند کو یہ حکم دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ جہاد میں شرکت کرنے کے بجائے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرے۔ یقین مانیں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی مہم یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی میں دینِ کامل پر عمل کیسے کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادات کا حق، حج و عمرہ کے تقاضے، جہاد میں شرکت، والدین کا حق، بیوی بچوں کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق، حصولِ رزق کے لیے محنت،مہمان کی میزبانی کے لیے وقت اور خرچ، فوتگیوں اور شادیوں کے معاملات …۔
ایک دن ایک اچھا خاصا دین دار اور با شرع آدمی اپنے بھائی کے ولیمے میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ نمازِ عصر فوت ہو گئی، ایک دن ایک مستقل نمازی ایک نماز میں غائب تھا، جب اس سے سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ مہمان آئے ہوئے تھے۔ در حقیقتیہ لوگ افراط و تفریطمیں مبتلا ہیں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے سے عاری ہیں، ہماری زندگیاں بیت گئیں اورہم اپنے اسلامی نظام الاوقات مقرر نہ کر سکے، وہ ولیمہ کرنے کی توفیق ہی ہوئی، جو کئی لوگوں کی نمازِ عصر سے محرومی کا سبب بنی، جن مہمانوں کی وجہ سے نمازیں متاثر ہو جائیں، وہ مہمان ہوتے ہیںیا شیطان۔ کیا ولیمہ اور میزبانی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز سے غفلت برت کر اللہ تعالیٰ کی بغاوت کر دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8925
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 1369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26839»
حدیث نمبر: 8926
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں۔ تین بار فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8926
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2670، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3655»
حدیث نمبر: 8927
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ آیا، ان میں سے کسی نے کہا: میں شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں نماز پڑھوں گا اور سوؤں گا نہیں، کسی نے کہا: میں روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13568»