کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: برائی کا عزم اور نیت کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 8897
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قِيلَ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول (کے جہنم میں جانے) کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / الإخلاص فى النية والعمل / حدیث: 8897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 31، 6875، ومسلم: 2888 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20711»