حدیث نمبر: 8893
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا وَلِسَانَهُ صَادِقًا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقِمْعٌ وَالْعَيْنُ مُقِرَّةٌ لِمَا يُوعِي الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم ، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8894
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تقوی، خلوص، مختلف جواہر اور معرفت کے خزانوں کا مرکز دل ہے، اسی طرح بندے کا کمال عمل صالح میں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں صورت اور مال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8895
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ قَالَ فَقُضِيَ أَنِّي انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّكَ تَقُولُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ أَلْفَ أَلْفٍ حَسَنَةٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ ثُمَّ تَلَا {يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [سورة الحديد: ١١] فَقَالَ إِذَا قَالَ {أَجْرًا عَظِيمًا} فَمَنْ يَقْدِرُ قَدْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان کہتے ہیں: مجھے یہ بات موصول ہوئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یوں کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کے عوض دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ مجھے حج یا عمرہ کرنے کا موقع مل گیا، پس میں گیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے کہا: مجھے تمہارے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی کہ تم کہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کی وجہ سے دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، (یہ حدیث تو میں نے بیان نہیں کی)، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اللہ تعالیٰ اس نیکی کو بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر ِ عظیم عطا کرتا ہے۔ اب کون ہے جو اجر ِ عظیم کا اندازہ کر سکے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھ کر اجر میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اللہ تعالیٰ ذرا برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو گی تو وہ اس کو بڑھا دے گا اور اپنی طرف سے اجرِ عظیم بھی عطا کرے گا۔ (سورۂ نسائ: ۴۰)
حدیث نمبر: 8896
(وَعَنْهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى بِنَحْوِهِ وَفِيهَا) فَقَالَ (يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَمَا أَعْجَبَكَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَيُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کس چیز نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کی قسم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بیس لاکھ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔