کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۃ الفلق سورۃ الفلق کی فضیلت اور تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8881
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَرَانِي الْقَمَرَ حَتَّى طَلَعَ فَقَالَ تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الْغَاسِقِ إِذَا وَقَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند کو طلوع ہوتے ہوئے دکھایا اور فرمایا: تو اللہ کی پناہ طلب کر اس غاسق کے شرّ سے، جب اس کی تاریکی پھیل جائے۔
وضاحت:
فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: غاسق سے مراد چاند یا رات ہے، جب سرخی غروب ہو جائے، جب چاند کو گرہن لگتا ہے، اس وقت بھی وقب کا لفظ بولا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاند گرہن سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی ایسی نشانی ہے، جو مصیبت و آزمائش پر دلالت کرتی ہے۔ دوسرا معنییہ ہے کہ غاسق سے مراد رات ہے، جب مشرق کی طرف اس کا اندھیرا چھا جائے، رات سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ رات کو آفات کا انتشار عام ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق غاسق سے مراد ثریا ستارہ ہے، جب وہ گر جائے اور غروب ہو جائے، ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کہا: میرے نزدیک بہتر بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غاسق کے شرّ سے پناہ طلب کریں، جب رات اندھیروں میں داخل ہو تی ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں، جب ستارہ غروب ہوتا ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں اور جب چاند چھا جائے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں، پس غاسق کی تخصیص نہ کی جائے، بلکہ اس کو عام رکھ کر اس سے پناہ مانگی جائے۔ (ملخص از: تحفۃ الاحوذی: ۹/ ۲۱۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8881
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 1486، وابويعلي: 4440، والحاكم: 2/ 540 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26230»
حدیث نمبر: 8882
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ اقْرَأْ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اس سورت کو پڑھا، یہاں تک کہ اس (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ ) نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنی یہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17475»
حدیث نمبر: 8883
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] قَالَ يَزِيدُ لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہوداور سورۂ یوسف پڑھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تو کوئی ایسی کوئی سورت نہیں پڑھی، جو {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پیاری، بلیغ اور نتیجہ خیز ہو۔ یزید راوی کہتے ہیں: ابوعمران اس سورت کی تلاوت کبھی نہ چھوڑتے تھے اور ہمیشہ اس کو نمازِ مغرب میں پڑھا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سورۃ الفلق اور سورۂ ناس بہترین دم ہیں اور مخلوقات کے شرّ اور جادو اور نظر بد وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہیں، ان کے نزول سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف الفاظ کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگتے تھے، لیکن جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8883
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، الدارمي: 3439، والطبراني في الكبير : 17/ 862 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»