کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقِيلَ لِي فَقُلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے مصحف سے معوذ تین کو مٹا دیتے اور کہتے کہ یہ کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں۔ اعمش کہتے ہیں: عاصم نے ہم کو زرّ سے بیان کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے بارے میں سوال کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا، پس میں نے کہہ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۰)
حدیث نمبر: 8879
عَنْ زِرٍّ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ فَلَمْ يُنْكِرْ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَأُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زر بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی تو ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے تھے، انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا۔ جب سفیان سے کہا کہ بھائی سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور یہ دو سورتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں نہیں تھیں، ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دو دم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذریعے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے تھے، دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان سورتوںکی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر وہ اسی رائے پر مصرّ رہے، لیکن باقی افراد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں، اس لیے انھوں نے ان کو قرآن مجید میں رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … عُوْذَۃ: دم، گھبراہٹ یا جنون یا کسی بیماری پر کیا جانے والے دم۔
حدیث نمبر: 8880
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُهَا فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقُلْتُهَا فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذ تین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے،انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ خبر دی کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں نے کہہ دیا، جبریل نے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، پس میں نے کہہ دیا، سو ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس مقام پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صحابۂ کرام اس حقیقت پر متفق تھے کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس قرآن مجید کا حصہ ہیں، انھوں نے ان کو ان مصاحف میں لکھا تھا، جن کو ساری اسلامی خلافت میں بھیجا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کرنا ثابت ہے، صرف سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییہ رائے ہے، ممکن ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان کی تلاوت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کے لیے اور پناہ مانگنے کے لیے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے، اس وجہ سے ممکن ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو دم سے متعلقہ دعائیں سمجھ لیا ہو۔ امام بزار نے کہا: کسی صحابی نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر ان کی متابعت نہیں کی، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ان کی تلاوت کی ہے۔ دیگر شرعی مسائل میں بھی صحابۂ کرام میں اس قسم کی مثالیںموجود ہیں، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو آدمییہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، ان کی تصدیق نہ کی جائے، جبکہ دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔