کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8857
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ بِـ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یا کسی انصاری صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ }پڑھی، گویا اس نے ایک تہائی قرآن مجید پڑھا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ اخلاص {قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ} ایک تہائی قرآنِ مجید کے برابر ہے۔ اس حدیث کی سب سے بہترین تفسیریہ ہے: قرآنِ مجید تین اساسی مقاصد پر مشتمل ہے: (۱) اوامر و نواہی: اللہ تعالی کے وہ عملی احکام جن میں واجبات، مستحبات، محرمات اور مکروہات کا ذکر ہے۔
(۲) اخبار و قصص: سابقہ انبیا و رسل اور ان کی امتوں کے حالات و واقعات اور نیک و بد اعمال کی بنیاد پر وصول ہونے والے ثواب و عقاب کی تفاصیل۔
(۳) علم التوحید: اللہ تعالی کی ذات اور اس کے اسما و صفات اور ان کے تقاضوں کی تفصیل۔
سورۂ اخلاص مجمل طور پر تیسری قسم علم التوحید پر مشتمل ہے، اس لیے اس کو قرآن کا تہائی حصہ قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة : 685 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21597»
حدیث نمبر: 8858
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقُومَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَالُوا وَهَلْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ فَإِنَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] ثُلُثُ الْقُرْآنِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْمَعُ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ أَبُو أَيُّوبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں تھے،انہوں نے کہا: کیا تم میں سے کوئی آدمی ہر رات کو ایک تہائی قرآن مجید کے ساتھ قیام کرنے کی طاقت نہیں پاتا؟ انہوں نے کہا: کیا کسی کو اتنی طاقت بھی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن ہے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو ایوب کو سن کر فرمایا: ابو ایوب سچ کہہ رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۸۶۰، ۸۸۶۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8858
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، وحُيَي بن عبد الله المعافري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6613»
حدیث نمبر: 8859
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَقَالَ أَوْجَبَ هَذَا أَوْ وَجَبَتْ لِهَذَا الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8859
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22645»
حدیث نمبر: 8860
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالُوا نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ وَأَعْجَزُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک رات میں قران پاک کا تیسرا حصہ پڑھے؟ لوگوں نے کہا: ہم تو اس سے بہت کمزور اور بے بس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء بنائے ہیں، ان میں سے ایک جزو سورۂ اخلاص کو قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28046»
حدیث نمبر: 8861
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبدالرحمن بن عوف اپنی امی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8861
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 10532، والطبراني في الكبير : 25/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27817»
حدیث نمبر: 8862
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ [الإخلاص: 1-2] فِي لَيْلَةٍ فَقَدْ قَرَأَ لَيْلَتَئِذٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8862
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه 2896 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23950»
حدیث نمبر: 8863
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اس سورۂ اخلاص سے محبت کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس محبت نے تجھے جنت میں داخل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2901،وأخرجه البخاري تعليقا: 774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12459»
حدیث نمبر: 8864
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَذَكَرَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ساری رات سورۂ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}کی تلاوت کی، پھر جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید کے نصف یا ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8864
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11131»
حدیث نمبر: 8865
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَهِيَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بے بس ہو کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ پڑھ لو؟ صحابہ کرام پر یہ بات گراں گزری اور انہوں نے کہا: اس عمل کی کون طاقت رکھتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}پڑھ لیا کرو، پس یہ ایک تہائی قرآن ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8865
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11068»
حدیث نمبر: 8866
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ (يَعْنِي الْبَدْرِيَّ الْأَنْصَارِيَّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8866
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 3789 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17235»
حدیث نمبر: 8867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمع ہو جاؤ، میں تم پر قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ تلاوت کرنے والا ہوں۔ جب جمع ہونے والے جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}کی تلاوت کی، پھر آپ اندر تشریف لے گئے، ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کوئی آسمان سے خبر آئی ہے، اس کی وجہ سے گھر چلے گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کروں گا،اور یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (جو میں نے تم پر پڑھ دی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8867
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9531»
حدیث نمبر: 8868
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى خَتَمَهَا فَقَالَ وَجَبَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے اس سورت کو مکمل کر لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاـ جنت واجب ہوگئی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اس قاری کو خوشخبری دوں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کو ترجیح دی، کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے سے محروم نہ ہو جاؤں، لیکن کھانا کھانے کے بعد جب میں اس آدمی کی طرف آیا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8868
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2897، والنسائي: 2/ 171 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10932»
حدیث نمبر: 8869
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَنْ أَسْتَكْثِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} یعنی سورۂ اخلاص آخر تک دس مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو میں بہت سے محلات حاصل کر سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بھی بہت کثرت والا اور بہت عمدہ عطا کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں سورۂ اخلاص کی فضلیت و عظمت اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت کا بیان ہے۔ اللہ تعالی نے جنت میں لے جانے والے تمام اسباب کی نشاندہی فرما دی ہے۔ دیکھئے! ہم کس قدر اللہ تعالی کی رحمت سے مستفید ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8869
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15695»
حدیث نمبر: 8870
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8870
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3789 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17235»