کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ اخلاص سورۂ اخلاص کی شانِ نزول اور اس کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8856
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْسِبْ لَنَا رَبَّكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ [الإخلاص: 1-4]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ہمارے لئے اپنے رب کا نسب بیان کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَلمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًااَحَدٌ۔} … کہہدواللہایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، اس نے کسی کو جنا نہیں اور نہ ہی وہ جنا گیاہے اور نہ ہی کوئی اس کی ہمسری کرنے والاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8856
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي سعد محمد بن ميسر وابي جعفر الرازي ۔ أخرجه الترمذي: 3364، 3365 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21538»