کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
حدیث نمبر: 8850
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [سورة النصر] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں میری موت کی اطلاع ہے، میں اس سال فوت ہونے والا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8850
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب قد اختلط، ومحمد بن فضيل روي عنه بعد الاختلاط ۔ أخرجه الطبراني: 11907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1873»
حدیث نمبر: 8851
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] فَقَالُوا أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسِ قَالَ قُلْتُ لَيْسَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُضُورِ أَجَلِهِ فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا [النصر: 1-3] فَقَالَ لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بدر والوں کو اپنی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے رکھی تھی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت دی تھی، بعض لوگوں نے اعتراض کیا اورکہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دیتے ہیں،حالانکہ اس جیسے ہمارے بیٹے بھی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن ان لوگوں کو بھی بلایا اور مجھے بھی اور ان سے سورۂ نصر کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکہ فتح ہو جائے، تو توبہ و استغفار کریں۔ مجھ سے کہا: اے ابن عباس! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا:میں اس طرح کا نظریہ نہیں رکھتا، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے ذریعے اپنے نبی کو خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت آ چکا ہے، {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} یعنی فتح مکہ، {وَرَأَ یْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَ فْوَاجًا} یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی علامت ہے، {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا}، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہاں جی، تم یہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما علمی لیاقت) دیکھ کر مجھے کیسے ملامت کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فقاہت تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سورۂ نصر میں تحمید، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر بھی ہے، کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا مقصد پورا ہوتا ہوا بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8851
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4294، 4970 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3127»