کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 8847
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] رُبْعُ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ کافرون قرآن مجید کا چوتھائی حصہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سورت محض توحید پر مشتمل ہے، اس میں شرک سے بیزاری اور دینِ حق کو اپنانے کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8847
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان ۔ أخرجه الترمذي: 2893، وابن ماجه: 3788 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12516»
حدیث نمبر: 8848
عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ قَالَ وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [سورة الإخلاص] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ’مہاجرابو حسن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوپانے والے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ سورۂ کافرون پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شرک سے بری ہو گیا ہے۔ ایک دوسرا سورۂ اخلاص پڑھ رہاتھا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سورت کے ذریعے اس آدمی کے لئے جنت واجب ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8848
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الدارمي: 2/ 458، والنسائي في الكبري : 8028 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23581»
حدیث نمبر: 8849
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي قَالَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ أَوِ الْجُوَيْرِيَةُ قَالَ قُلْتُ عِنْدَ أُمِّهَا قَالَ فَمَجِيئِي مَا جِئْتَ قَالَ قُلْتُ تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي فَقَالَ اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] قَالَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی مجھے دی اور فرمایا: تو میری بیٹی کو دودھ پلانے والی عورت کا خاوند ہے۔ جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کومنظور تھا، وہ رہے، پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی وہ اپنی امی کے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ مجھے یہ تعلیم دیں کہ میں سوتے وقت کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت سورۂ کافرون پڑھا کرو، جب یہ ختم ہو تو سو جایا کرو، یہ شرک سے بیزاری اور براء ت کا اعلان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 5055، والترمذي باثر الحديث: 3403 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24217»