حدیث نمبر: 8842
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ [سورة قريش: ١-٢] وَيْحَكِ يَا قُرَيْشُ اعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: {لِاِیْلَافِ قُرَیْشٍ ۔ اِیْلَافِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاءِ وَالصَّیْفِ} … قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، یعنی انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قریش! بہت افسوس ہے تم پر، اپنے اس گھر کے رب کی عبادت کرو،جس نے تمہیں بھوک سے کھانا کھلایا اور خوف سے امن دیا۔
وضاحت:
فوائد: … قریش کی گزران کاذریعہ تجارت تھی، سال میں دو بار ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیائے تجارت لاتا، سردیوں میںیمن، جو گرم علاقہ تھا، اور گرمیوں میں شام کی طرف، جو ٹھنڈا تھا، خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے تمام اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے، اس لیے ان کے قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اور دوسفر ہونے کی وجہ سے موسم کی سختیوں سے بھی محفوظ رہتے۔ اللہ تعالی ان احسانات کی بناپر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ قریشیوں کو چاہیے تھا کہ شرک نہ کرتے اور اللہ تعالی کی عبادت کرتے۔