کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۃالزلزال سورۂ زلزال کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8836
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] رُبْعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ [سورة الزلزلة] رُبْعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ [سورة النصر] رُبْعُ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورہ کافرون قرآن مجید کا چوتھائی حصہ ہے، سورۂ زلزال بھی قرآن مجید کا ایک چوتھائی ہے اور سورہ ٔ نصر بھی ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8836
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان ۔ أخرجه الترمذي: 2893، وابن ماجه: 3788 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12516»
حدیث نمبر: 8837
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَهُ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ فَقَالَ الرَّجُلُ كَبِرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ فَاقْرَأْ مِنْ ذَوَاتِ حَامِيمَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ [سورة الزلزلة] حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ ثُمَّ قَالَ عَلَيَّ بِهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ لَهُ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید کی تعلیم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الٓر والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔ اس آدمی نے کہا: میری عمر بڑی ہو چکی ہے دل سخت ہو چکا ہے، زبان موٹی ہے،( اس لیے مقدار تھوڑی کریں)،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو پھر حمٓ والی سورتیں پڑھ لو۔ لیکن اس نے پہلے والا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسبحات سورتیں پڑھ لو۔ اس نے کہ: اے اللہ کے رسول! کوئی ایک جامع سورت پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَ رْضُ} والی سورت پڑھی،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے، اب کی بار اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کربھیجا ہے، میں اس میں اضافہ نہ کروں گا، پھر وہ آدمی منہ پھیر کر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کامیاب ہوا، یہ آدمی کامیاب ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … الرٰ: یہ وہ سورتیںہیں، جن کے شروع میں لفظ الرٰ آتا ہے، یہ کل پانچ سورتیں ہیں: یونس، ہود، یوسف، ابراہیم، حجر۔ حٰمٓ: اس سے مراد وہ سورتیں ہیں، جن کے شروع میں لفظ حٰمٓ آتا ہے، یہ کل سات سورتیںہیں: غافر، فصلت، شوری، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف۔ مسبحات: ان سے مراد وہ سورتیں ہیں، جن کے شروع میں تسبیح والا لفظ ہو، جیسے سَبَّحَ، یُسَبِّحُ وغیرہ۔ یہ بھی کل سات سورتیں ہیں: اسرائ، حدید، حشر، صف، جمعۃ، تغابن، اعلی۔چونکہ سورہ زلزال قیامت، دوبارہ جی اٹھنے اور جزاء وسزا کے احوال پر مشتمل ہے اور عمررسیدہ آدمی کے لیےیہی سورت مناسب ہے۔ جو شخص قربانی کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرے، عید والے دن اپنے بال اور ناخن تراشے، اپنی مونچھیں کاٹے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرے، یہ اہتمام اس کے لیے قربانی کے قائم مقام ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1399، 2789، والنسائي: 7/ 212 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6575»