کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ ضحیٰ {وَالضُّحٰی وَللَّیْلِ اِذَا سَجٰی … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8831
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ (وَفِي لَفْظٍ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكَكَ وَفِي لَفْظٍ مَا أَرَى صَاحِبَكَ إِلَّا قَدْ أَبْطَأَ عَلَيْكَ) فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى [سورة الضحى: ١-٣]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتیں قیام نہ کر سکے، ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے محمد! میں دیکھتی ہوں کہ تم نے دو تین دن سے قیام نہیں کیا، میرا خیال ہے کہ تمہارا شیطان تجھے چھوڑ گیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی} … قسم ہے چاشت کے وقت کی۔ اور قسم ہے رات کی، جب چھا جائے، نہ تو تیرے ربّ نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8831
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4950، ومسلم: 1797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19008»