کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سورۂ فجر {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّیْلِ اِذَا یَسْرِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8828
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى وَالْوِتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس راتوں سے مراد عید الاضحی کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، وتر سے مراد عرفات کے میدان کا دن ہے اور شفع سے ذبح کا دن مراد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اِنَّ الْعَشْرَ سے مراد {وَالْفَجْرِ۔ وَلَیالٍ عَشْرٍ۔} میں لَیَال کے الفاظ ہیں۔ {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ} … قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی۔
حدیث نمبر: 8829
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ فَقَالَ هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وَتْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفع اور وتر کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں جفت اور بعض نمازطاق ہوتی ہیں۔