کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8815
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} [المدثر: 56] قَالَ ((قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلُ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی:{أَ ہْلُ التَّقْوٰی وَأَ ہْلُ الْمَغْفِرَۃِ} … وہ اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس لائق بھی کہ وہ بخش دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، پس میرے ساتھ کوئی معبود نہ بنایا جائے اور جو میرے ساتھ معبود بنانے سے ڈر گیا تو میں اس لائق ہوں کہ اس کو بخش دوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آیت ِ مبارکہ کا مفہوم بیان کیا ہے، اس کا مفہوم یہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8815
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سھيل اخي حزم ۔ أخرجه ابن ماجه: 4299، والترمذي: 3328 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12469»