حدیث نمبر: 8814
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: 8] قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَتَسَمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ)) فَقَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ كَيْفَ نَقُولُ قَالَ ((قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ} … پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے نازو نعمت سے رہوں جبکہ صور والا فرشتہ صور کو منہ میں لے کر اپنی پیشانی کو جھکا کر کھڑا ہو چکا ہے، یہ سننے کے لیے کہ کب اس کو صور میں پھونکنے کا حکم ملتا ہے، پس وہ صور پھونک دے۔ صحابۂ کرام نے کہا: اب ہم کون سا ذکر کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا … (ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے، ہم نے اللہ پر توکل کیا۔)
وضاحت:
فوائد: … جس فرشتے کے صور پھونکے پر دنیا ختم ہو جائے گی اورپھر قیامت بپا ہو جائے گی، اگر اس کییہ کیفیت ہے تو مسلمان اس دنیا میں دل لگا کر اور عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکے۔