کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہٗ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہٖ لِبَدًا}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8811
وَعَنْهُ أَيْضًا ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ {وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا} [الجن: 19] قَالَ لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ قَالُوا إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ارشادِ باری تعالی ہے:{وَّاَنَّہ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔} … اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہو جائیں۔ جب جنوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ مل کر نماز پڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں،جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کی اطاعت شعاریاں دیکھیں تو وہ حیران رہ گئے اور اپنی قوم کے پاس جا کر کہا: جب وہ اللہ کے بندے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوئے تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس آیت کے مزید بھی کوئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں، ایک مفہوم کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حد درجہ اطاعت گزار تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ۔ أخرجه الترمذي بأِثر الحديث رقم: 3323 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2431»