کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ معارج {تَعْرُجُ الُمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8808
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا، یہ کس قدر طویل دن ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ مومن پر بہت ہلکا ہو گا، بس دنیا میں جتنی دیر وہ فرض نماز کی ادائیگی میں لگاتا ہے، اس کو اتنا وقت محسوس ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَـنَۃٍ۔} … فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔ (سورۂ معارج: ۴)
ان دن کی تعیین میں بہت اختلاف ہے، حافظ ابن کثیر نے کل چار اقوال ذکر کرکے اس درج ذیل قول کو ترجیح دی ہے: یہ قیامت کا دن ہے، اس آیت میں اس کی مقدار بیان کی گئی ہے، اس کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانع زکوۃ کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((حَتّٰییَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَ عِبَادِہٖفِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ۔)) … (کہ اس کا عذاب جاری رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ایسے دن میں، جس کی مدت تمہاری گنتی کے م طاببق پچاس ہزار سال ہو گی۔ (صحیح مسلم)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8808
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف رواية دراج عن ابي الھيثم ۔ أخرجه ابويعلي: 1390، وابن حبان: 7334 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11740»