کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوًا انْفَضُّوْا اِلَیْہَا … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8797
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ مَرَّةً الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ اثْنَا عَشَرَ فَنَزَلَتْ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا [سورة الجمعة: ١١]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک مرتبہ ایک اناج والا قافلہ مدینہ میں آیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، ہوا یوں کہ لوگ سب قافلہ کی طرف چلے گئے اور صرف بارہ(۱۲) آدمی باقی رہ گئے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِذَا رَأَ وْا تِجَارَۃً أَ وْ لَہْوًا انْفَضُّوا إِلَیْہَا} … اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … تفصیلی روایت درج ذیل ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((بَیْنَمَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَخْطُبُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَدِمَتْ عِیْرٌ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَابْتَدَرَھَا أَ صْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی لَمْ یَبْقَ مَعَہٗإِلاَّاثْنَاعَشَرَرَجُلاً،فَقَالَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتّٰی لَایَبْقٰی مِنْکُمْ أَ حَدٌ، لَسَالَ بِکُمُ الْوَادِی نَاراً۔)) فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الآیَۃُ: {وَإِذَا رَأَ وْاتِجَارَۃً أَ وْ لَھْواً انْفَضُّوْا إِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِماً} (الْجُمُعَۃُ:۱۱)۔)) وَقَالَ: فِی اْلاِثْنَیْ عَشَرَ الَّذِیْنَ ثَبَتُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَ بُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔))
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مدینہ میں ایک (تجارتی) قافلہ آیا، اصحابِ رسول اس کی طرف لپک پڑے اور (مسجد میں) صرف بارہ آدمی بچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ صورتحال دیکھ کر) فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سارے کے سارے چلے جاتے اور کوئی بھی باقی نہ بچتا تو اس وادی میں آگ بہہ پڑتی جو تمھیں بہا کر لے جاتی۔ پھر یہ آیات نازل ہوئیں: جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیںیا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ (سورۂ جمعہ: ۱۱) راوی کہتے ہیں: جو بارہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے رہے، ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ (ترمذی: ۳۳۰۸، وأخرجہ البخاری: ۹۳۶، ۴۸۹۹، ومسلم: ۳/ ۱۰ لکن لم یذکرا لفظ: والذی نفسی بیدہ … لسال بکم الوادی نارا۔ صحیحہ: ۳۱۴۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2064، 4899، ومسلم: 863 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14408»