حدیث نمبر: 8789
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ الثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو صبح کو تین بار کہتا ہے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، اور پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار (70000) فرشتے مقرر کرتا ہے، جوشام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، اگر وہ اس دن فوت ہو جائے تو وہ شہید فوت ہوگا اور جو شام کو پڑھے گا، وہ صبح تک اسی مرتبہ پر ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ حشر کی آخری تین آیات درج ذیل ہیں: {ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاء ُ الْحُسْنٰییُسَبِّحُ لَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چھپی اور کھلی چیز کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔