کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8783
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَاللَّهِ فِيَّ وَفِي أَوْسِ بْنِ صَامِتٍ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ وَضَجِرَ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ بِشَيْءٍ فَغَضِبَ فَقَالَ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَإِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي قَالَتْ فَقُلْتُ كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خَوْلَةَ بِيَدِهِ لَا تَخْلُصُ إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ قَالَتْ فَوَاثَبَنِي وَامْتَنَعْتُ مِنْهُ فَغَلَبْتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ فَأَلْقَيْتُهُ عَنِّي قَالَتْ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى بَعْضِ جَارَاتِي فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابَهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا خَوْلَةُ ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ فِيَّ الْقُرْآنُ فَتَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَتَغَشَّاهُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ لِي يَا خَوْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ [سورة المجادلة: ١-٤] فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً قَالَتْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُعْتِقُ قَالَ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَتْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ قَالَ فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَاكَ عِنْدَهُ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ قَدْ أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي عَنْهُ ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا قَالَتْ فَفَعَلْتُ قَالَ سَعْدٌ الْعَرَقُ الصِّنُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کا ابتدائی حصہ میرے اور میرے خاوند سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل کیا، تفصیل یہ ہے: میں ان کی بیوی تھی، اوس بوڑھے اور ضعیف ہو گئے، جس کی وجہ سے بداخلاق ہو گئے تھے اور تنگ پڑ جاتے تھے، ایک دن میرے پاس آئے، میں نے ان سے تکرار کیا، وہ غصے میں آئے اور کہا:تو میرے اوپر میری ماں کی پشت کی مانند ہے، پھر باہر چلے گئے، کچھ دیر اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھےرہے، پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے صحبت کرنا چاہی، لیکن میں نے کہا: ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ رضی اللہ عنہاکی جان ہے! تو مجھ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا، تو نے تو ابھی یہ کچھ کہا ہے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ نہ کردیں، وہ میری طرف کود پڑے، لیکن میں خود کو ان سے محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئی، جیسے ایک عورت اپنے بوڑھے خاوندپر غالب آ جاتی ہے، میں نے انہیں دور پھینکا اور میں باہر نکل گئی، اپنی ہمسائی سے کپڑے لیے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر سارا واقعہ بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی بد خلقی کی شکایت کرنے لگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خولہ! وہ تیرا چچے کا بیٹا ہے اور بوڑھا ہو گیا ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لیکن میں اسی طرح تکرار کرتی رہی حتیٰ کہ میرے بارے میں قرآن مجید نازل ہونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہ کیفیت طاری ہو گئی، جو وحی میں ہوتی تھی، پھر وہ کیفیت ختم ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوگیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ … … وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَ لِیمٌ}۔سیدنا خولہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خاوند سے کہو کہ ایک گردن آزاد کرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس اتنی گنجائش تو نہیں ہے کہ وہ غلام آزاد کرسکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس سے کہو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بہت بوڑھا ہے اور وہ روزے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کہو کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھانا کھلا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی اس کے پاس نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ٹوکرا کھجوروں کا میں تعاون کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک ٹوکرا میں بھی مدد کر دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے بہت درست اور اچھا فیصلہ کیا ہے، اب جا اور اس کی طرف سے صدقہ کر، پھر اپنے چچے کے بیٹے سے ہمدردی کا برتاؤ کرنا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کل چار آیات تھیں، جو کہ درج ذیل ہیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔ اَلَّذِیْنَیُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَایِــہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا ا وَلَدْنَہُمْ وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ وَالَّذِیْنَیُظٰہِرُوْنَ مِنْ نِّسَائِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّـتَـمَاسَّا ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖوَاللّٰہُبِمَاتَعْمَلُوْنَخَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَـاسَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِـتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَتِلْکَحُدُوْدُاللّٰہِوَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔}
یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیںوہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔ اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کر لیتے ہیں جو انھوں نے کہا، تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں،یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاتے ہو، اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ان آیات میں ظہار اور اس کے کفارے کا بیان ہے۔ ظہار یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو یوں کہے: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمَّتِیْ۔ (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے)۔ زمانۂ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا اسی وجہ سے سخت پریشان ہو گئی تھیں، اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کچھ توقف کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بحث و تکرار کرتی رہیں، بالآخر یہ آیات نازل ہوئیں، جس میں اس کے مسئلہ کی وضاحت کر دی گئی۔
یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیںوہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔ اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کر لیتے ہیں جو انھوں نے کہا، تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں،یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاتے ہو، اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ان آیات میں ظہار اور اس کے کفارے کا بیان ہے۔ ظہار یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو یوں کہے: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمَّتِیْ۔ (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے)۔ زمانۂ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا اسی وجہ سے سخت پریشان ہو گئی تھیں، اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کچھ توقف کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بحث و تکرار کرتی رہیں، بالآخر یہ آیات نازل ہوئیں، جس میں اس کے مسئلہ کی وضاحت کر دی گئی۔
حدیث نمبر: 8784
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُكَلِّمُهُ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا [سورة المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں، جس کا سننا تمام آوازوں کو شامل ہے، بحث و تکرار کرنے والی (سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور گفتگو کرنے لگی، جبکہ میں گھر کے ایک کونے میں تھی، میں اس کی بات نہ سن سکی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔} … یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 8785
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ [سورة المجادلة: ٨] حَتَّى فَرَغَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا : اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو )، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُم (اور تم پر بھی ہو)۔لیکن سیدہ عائشہ نے کہا: تم پر موت بھی ہو اور مذمت بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اتنی بد گوئی نہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سنا نہیں کہ انھوں نے کیا کہا، ان لوگوں نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں نے ان کا جواب دے نہیں دیا، میں نے کہہ تو دیا ہے: وَعَلَیْکُمْ۔ ابن نمیر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش اور بہ تکلف بدگوئی کو پسند نہیں کرتا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
حدیث نمبر: 8786
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَامٌ عَلَيْكَ ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ [سورة المجادلة: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سَامٌ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو)کہا کرتے تھے، پھر اپنے دل میں ہی کہتے: اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی وجہ سے عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہیہودیوں کا خبث ِباطن تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اپنے وقار کو برقرار رکھا۔