کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَظِلٍّ مَمْدُوْدٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8778
حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ [الواقعة: 30] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ [الواقعة: 30]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قتادہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} … اور لمبے لمبے سایوں میں کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سائے میں ایک سو سال چلے گا، پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے: اگر چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} … اور لمبے لمبے سایوں میں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه من حديث ابي ھريرة البخاري: 4881، ومسلم: 2826، و أخرجه من حديث انس الترمذي : 3293 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12706»