کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖاِنْسٌوَّلَاجَانٌّ … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8775
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ [الرحمن: 39، 41]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نہیں ہوسکتا کہ بندے کا قیامت کے دن محاسبہ بھی ہو اور پھر اس کو بخش بھی دیا جائے، مسلمان قبر میں بھی اپنے عمل کو دیکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِہِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ } … اس دن کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گی۔ نیز فرمایا: {یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیمَاہُمْ} … گنہگار صرف حلیہ سے ہی پہچان لیے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان قبر میں بھی اپنے عمل کو دیکھتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قبر میں بھی مسلمان کا کچھ محاسبہ ہو جاتاہے، تاکہ قیامت کے دن کا معاملہ کچھ آسان ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8775
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25223»