کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ ق {یَوْمَ نَقُوْ لُ لِجَہَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8764
عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنَ التَّفْسِيرِ قَالَ قَوْلُهُ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ [ق: 30] قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت {یَوْمَ نَقُولُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَأْتِ} … جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تم بھر گئی ہے۔ کی تفسیر کے متعلق روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخ یہی مطالبہ کرتی رہے گی کہ کیا مزید لوگ ہیں،یہاں تک کہ عزت والا ربّ اپنا قدم مبارک اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی: بس بس، تیری عزت کی قسم ! پھردوزخ کا ایک حصہ دوسرے کی طرف سکڑ جائے گا (اور وہ بھر جائے گی)۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے جہنم سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ اس کو بھر دے گا، لیکن وہ اس قدر گہری اور وسیع ہے کہ جب اس کے مستحق افراد کو اس میں ڈالا جائے گا تو ابھی تک اس کا بڑا حصہ خالی پڑا ہو گا، اللہ تعالی اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے اپنا قدم مبارک اس میں رکھیں گے اور اس کے کنارے آپس میں بھر جائیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اس عذاب گاہ سے محفوظ رکھے۔ آمین
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6661، ومسلم: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13435»