کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {اِنَّ الَّذِیْنَیُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8760
عَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ ((ذَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجروں کے پیچھے کھڑے ہو کر یوں آوا ز دی: اے اللہ کے رسول! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر پکارا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری تعریف کرنا زینت ہے اور میری مذمت کرنا عیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شان تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَیُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ حجرات: ۴،۵)
بے شک وہ لوگ جو تجھے دیواروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ اور اگر بے شک وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں، جس طرح بدو لوگوں میں دستور تھا، دراصل ان میں سے اکثر بے عقل ہیں، پھر اس کی بابت ادب سکھایا کہ چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بات کرنی ہوتی، کر لیتے، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے، دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ ایسے لوگوں کو توبہ اوراستغفار کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8760
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو سلمة بن عبد الرحمن لم يثبت سماعه من الاقرع بن حابس ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16087»