حدیث نمبر: 8756
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: 24] قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ والے دن مکہ والوں میں سے اسی (۸۰) ہتھیاروں سے لیس آدمی تنعیم پہاڑ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر چڑھ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، پس ان کو گرفتا کر لیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے ۸۰ آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر انہیں موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کاروائی کریں، چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تنعیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا، جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہو گیا اور انھوں نے ہمت کر کے ان تمام آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا، ان کا جرم تو شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی،لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے، کیونکہ اسی میں مسلمانوں کا مفاد تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 8757
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ يَقَعُ مِنْ أَغْصَانِ تِلْكَ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ((اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)) فَأَخَذَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ فَقَالَ مَا نَعْرِفُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ قَالَ ((اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ)) فَكَتَبَ ((هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ)) فَأَمْسَكَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ وَقَالَ لَقَدْ ظَلَمْنَاكَ إِنْ كُنْتَ رَسُولَهُ اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ فَقَالَ ((اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)) فَكَتَبَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَبْصَارِهِمْ فَقَدِمْنَا إِلَيْهِمْ فَأَخَذْنَاهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ أَحَدٌ أَمَانًا)) فَقَالُوا لَا فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: 24]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس درخت کی جڑ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے، اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑ رہی تھیں، سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (معاہدہ لکھو)، لکھو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ لیکن سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ہم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کونہیں جانتے، ہمارے صلح کے فیصلہ میں وہ لکھو جو ہم جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چلو) بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھوایا کہ یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ والوں سے صلح کی ہے۔ لیکن سہیل نے اس بار پھر ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نے آپ کو روک کر آپ پر ظلم کیا ہے، ہم آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں لکھو جو ہم پہنچانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس پر محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے صلح کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھ دو، لکھ دو، جبکہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں اور میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ ہم صلح کی یہ شرائط لکھ رہے تھے کہ تیس (۳۰) نوجوان مسلح ہو کر ہمارے سامنے سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی ختم کر دی اور ہم نے آگے بڑھ کر ان کو گرفتار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم کسی کے عہد میں ہو، کیا کسی نے تم کو امان دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اوراللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری:{ وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرًا۔} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا اور تم جو کچھ کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اسے دیکھ خوب رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلی حدیث میں حملہ آوروں کی تعداد (۸۰) بتائی گئی اور اس حدیث میں (۳۰)، اس کی توضیحیہ ہے کہ واقعی ان کی تعداد (۸۰) تھی، ہر صحابی نے اپنے علم کے مطابق خبر دی۔