کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ احقاف {قَالَ اَرَاَیْتُمْ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ … }کی تفسیر
حدیث نمبر: 8749
عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {أَوْ آثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ ((الْخَطُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، امام سفیان کہتے ہیں: میرایہی خیال ہے کہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ} کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد خط ہے۔
وضاحت:
فوائد: … طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: أَ نَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُئِلَ عَنِ الْخَطِّ، فَقَالَ: ((ھُوَ أَ ثَارَۃٌ مِنْ عِلْمٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خط کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ علم کا بقیہ ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔}
اے نبی، ان سے کہو،کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے۔ اس
سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (ان عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
اس حدیث میں {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ} کا معنی خط کیا گیا ہے خط لگانا ایک نبی کا طریقہ تھا، لیکن ہمارے لیےیہ جاننا ناممکن ہے کہ کون سا خط اس نبی کے خط سے موافقت کر رہا ہے اور کون مخالفت، اس لیے ہمارے لیے علم کا یہ کوئی طریقہ نہیںہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَ نْبِیَائِیَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَہُ فَہُوَ عِلْمُہُ۔)) … ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔ (مسند احمد: ۹۱۰۶)
گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی،یہ قسمت آزمائی کی ممنوعہ صورت ہے۔ {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ}کے مزید دو معانی بیان کیے گئے ہیں: کوئی منقول روایتیا واضح علمی دلیل۔
یہ معنی زیادہ واضح ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس غیر اللہ کو پکارنے کے متعلق سابقہ دور کی کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ پیش کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8749
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الطبراني: 10725، والحاكم: 2/ 454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1992»