کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَنَادَوْا یَا مَالِکُ … }کی تفسیر
حدیث نمبر: 8747
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ((وَنَادَوْا يَا مَالِكُ)) [الزخرف: 77]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر یہ الفاظ ادا کیے : ((وَنَادَوْا یَا مٰلِکُ۔)) … وہ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک!
وضاحت:
فوائد: … جہنم کے داروغے کا نام مالک ہے۔ پوری آیتیوں ہے: ((وَنَادَوْا یَا مٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ۔)) … اوروہ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا ربّ ہمارا کام ہی تمام کر دے، لیکن وہ کہے گا: تمہیں تو ہمیشہ (اسی جہنم میں) رہنا ہے۔ جہنمی، جہنم میں موت کا مطالبہ کریں گے، لیکن اس وقت موت کوموت آ چکی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8747
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3230، 3266،ومسلم: 871 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18125»