کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8745
عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (({مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30] وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ {مَا أَصَابَكُمْ} مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا {فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ} وَاللَّهُ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمْ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَمَا عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: کیا میں تمہیں قرآن مجید کی افضل آیت نہ بتاؤں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان فرمائی تھی، وہ آیت یہ ہے: {مَا أَ صَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَ یْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ} … تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میں تمہارے لئے اس کی تفسیر بیان کرتاہوں : {مَا أَ صَابَکُمْ} جو کچھ تم کو پہنچتا ہے،یعنی بیماری یا سزا یا کوئی دنیوی آزمائش، {فَبِمَا کَسَبَتْ أَ یْدِیکُمْ} (تووہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے) اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کرم والا ہے کہ وہ آخرت میں تم کو دوبارہ عذاب دے، اور اللہ تعالیٰ دنیا میں جو کچھ معاف کردیتا ہے، تو وہ اس سے بہت زیادہ بردبار ہے کہ معاف کرنے کے بعد دوبارہ گرفت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس آیت میں اہل ایمان سے خطاب کیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ بعض گناہوں کا کفارہ دنیوی مصائب بن جاتے ہیں، کچھ گناہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالی کی ذات اتنی بڑی کریم ہے کہ وہ معاف کرنے کے بعد آخرت میں دوبارہ مؤاخذہ نہیں فرمائے گی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَ ذْنَبَ فِی الدُّنْیَا ذَنْبًا فَعُوْقِبَ بِہِ فَاللّٰہُ أَ عْدَلُ مِنْ أَ نْ یُثْنِیٰ عقُوْبَتَہُ عَلٰی عَبْدِہِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِی الدُّنْیَا فَسَتَرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَفَا عَنْہُ فَاللّٰہُ أَ کْرَمُ مِنْ أَ نْ یَعُوْدَ فِیْ شَیْئٍ قَدْ عَفَا عَنْہُ۔)) (ترمذی: ۲۶۲۶، وابن ماجہ: ۲۶۰۴،مسند احمد: ۷۷۵)
جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہ سمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جاچکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر چیز مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہ سمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جاچکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر چیز مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔