کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سورۂ فصلت {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا اَبْصَارُکُمْ … }کی تفسیر
حدیث نمبر: 8743
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِسِتَارِ الْكَعْبَةِ فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَسْمَعْهُ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا هَذَا فَقَالَ الْآخَرُ أُرَانَا إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهُ وَإِذَا لَمْ نَرْفَعْهَا لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ الْآخَرُ إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {ذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [فصلت: 22-23]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کعبہ کے پردے کی اوٹ میں چھپا ہواتھا کہ تین آدمی آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے تھے، جو بنو ثقیف سے تھے، یاایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، ان کے پیٹوں پر چربی تو بہت زیادہ چڑھی ہوئی تھی لیکن دلوں میں سمجھ کی کمی تھی، انہوں نے مختلف باتیں کیں، میں وہ ساری تو نہ سن سکا، بہرحال ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ بات سن رہا ہے؟ دوسرے نے کہا: میرا خیال ہے کہ جب ہم آواز بلند کریں گے تو وہ ہماری آواز سنے گا اور جب ہم آوازیں بلند نہیں کریں گے تو وہ نہیں سنے گا، تیسرا بولا اور اس نے کہا: اگر وہ ہماری بات کا کچھ حصہ سنتا ہے تو پھر اس کامطلب یہ ہوا کہ وہ ساری باتیں سنتا ہے۔ جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ … … فَأَصْبَحْتُمْ مِنْ الْخَاسِرِینَ}
وضاحت:
فوائد: … مکمل آیاتیہ ہیں: {وَمَا کُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ وَلٰکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۔} … اور تم اس سے چھپ نہیں سکتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔ اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔
مشرک واقعی کھوٹی عقل والا ہوتا ہے، بھلا جو اللہ تعالی کا وفادار نہ رہے، اس کو کون آسرا دے گا۔
مشرک واقعی کھوٹی عقل والا ہوتا ہے، بھلا جو اللہ تعالی کا وفادار نہ رہے، اس کو کون آسرا دے گا۔