حدیث نمبر: 8730
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يس قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ وَاقْرَؤُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یساررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کی خاطر اس کی تلاوت کرے گا، اس کو بخش دیا جائے گا اور اس سورت کو اپنے مردوں کے پاس پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 8731
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي الْمَشْيَخَةُ أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ فَقَالَ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ {يس} قَالَ فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ قَالَ فَكَانَ الْمَشْيَخَةُ يَقُولُونَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا قَالَ صَفْوَانُ وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صفوان کہتے ہیں: بعض بزرگوں نے مجھے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے پاس موجود تھے، ان پر عالم نزع کی بڑی سختی تھی، پس انھوں نے کہا: کیا تم میں سے کوئی آدمی سورۂ یس پڑھ سکتا ہے؟ صالح بن شریح سکوتی نے سورۂ یس کی تلاوت کی، ابھی تک انھوں نے چالیس آیتیں پڑھی تھیں کہ وہ فوت ہوگئے۔ بزرگ کہتے تھے کہ جب میت پر اس سورت کی تلاوت کی جائے تو اس کی وجہ سے اس پر تخفیف کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 8732
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ)) قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَتَسْتَأْذِنَ فِي الرُّجُوعِ فَيُؤْذَنَ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ إِلَى مَطْلَعِهَا فَذَلِكَ مُسْتَقَرُّهَا)) ثُمَّ قَرَأَ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غروب ِ آفتاب کے وقت مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تجھے معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چلتا رہے گا،یہاں تک کہ اپنے ربّ کے سامنے سجدہ کر کے واپس آنے کی اجازت طلب کرے گا، پس اس کو اجازت دی جائے گی اور کہاجائے گا: تو جہاں سے آیا ہے، وہیں چلا جا، پس یہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے گا، وہی اس کے قرار پکڑنے کی جگہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} … اور سورج اپنے ٹھہرنے کی جگہ کی طرف چلتا ہے۔
حدیث نمبر: 8733
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38] قَالَ ((مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۶۰۰)