حدیث نمبر: 8712
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ زَيْنَبَ وَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا [سورة الأحزاب: ٣٧] يَعْنِي زَيْنَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے ان کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو دل میں کچھ خیال آیا،یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ حماد کا قول ہے یا حدیث کا حصہ ہے، اُدھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی بیوی کی شکایت کی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ پس یہ حکم نازل ہوا: {وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیہِ … … زَوَّجْنَاکَہَا} … تک، اس سے مراد زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاقیہ ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:((لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّۃُ زَیْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِزَیْدٍ: ((فَاذْکُرْہَا عَلَیَّ۔)) قَالَ فَانْطَلَقَ زَیْدٌ حَتّٰی أَ تَاہَا وَہِیَ تُخَمِّرُ عَجِینَہَا قَالَ فَلَمَّا رَأَیْتُہَا عَظُمَتْ فِی صَدْرِی حَتَّی مَا أَ سْتَطِیعُ أَ نْ أَ نْظُرَ إِلَیْہَا أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَکَرَہَا فَوَلَّیْتُہَا ظَہْرِی وَنَکَصْتُ عَلٰی عَقِبِی فَقُلْتُ: یَا زَیْنَبُ! أَ رْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَذْکُرُکِ، قَالَتْ: مَا أَ نَا بِصَانِعَۃٍ شَیْئًا حَتّٰی أُوَامِرَ رَبِّی فَقَامَتْ إِلٰی مَسْجِدِہَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہَا بِغَیْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِینَ امْتَدَّ النَّہَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِیَ رِجَالٌ یَتَحَدَّثُونَ فِی الْبَیْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ۔)) (صحیح بخاری: ۴۷۸۷، ۷۴۲۰، صحیح مسلم: ۱۴۲۸)
جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے فرمایا: ’ زینب سے میرا ذکر کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے، ان کے پاس پہنچے، جبکہ وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے انہیں دیکھا، تو میرے دل میں ان کی عظمت آئییہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ ہوئی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا، چنانچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا، یعنی ان کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑا ہوا اور پھر کہا: اے زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یاد کرتے ہیں۔ سیدہ نے کہا میں اس وقت تک کچھ بھی نہیں کر سکتی، جب تک کہ اپنے ربّ سے استخارہ نہ کرلوں،پھر وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بغیر اجازت آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کر دی۔
جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے فرمایا: ’ زینب سے میرا ذکر کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے، ان کے پاس پہنچے، جبکہ وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے انہیں دیکھا، تو میرے دل میں ان کی عظمت آئییہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ ہوئی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا، چنانچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا، یعنی ان کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑا ہوا اور پھر کہا: اے زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یاد کرتے ہیں۔ سیدہ نے کہا میں اس وقت تک کچھ بھی نہیں کر سکتی، جب تک کہ اپنے ربّ سے استخارہ نہ کرلوں،پھر وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بغیر اجازت آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کر دی۔
حدیث نمبر: 8713
عَنْ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا [سورة الأحزاب: ٣٧]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا کوئی حصہ چھپانا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان آیات کو چھپا لیتے: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَ نْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ … … وَکَانَ أَ مْرُ اللّٰہِ مَفْعُولًا}۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـیہُ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَایِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔} (سورۂ احزاب: ۳۷) اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے انعام کیا اور جس پر تونے انعام کیا کہہ رہا تھا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھاجسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو، جب وہ ان سے حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے (پورا) کیا ہوا ہے۔
اس باب کا مفہوم درج ذیل ہے: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو اگرچہ اصلاً عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطورِ غلام بیچ دیا، جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو انھوں نے یہ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر کے اپنا لے پالک بیٹا بنا لیا اور بعد میں اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کر دی، بہرحال مزاج میں فرق برقرار رہا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے دامن پر غلامی کا داغ تھا، سو ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی، جس کا تذکرہ زید رضی اللہ عنہ نبیکریم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ ظاہر کرتے رہتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین کرتے، اُدھر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کر دیا جائے گا، تاکہ جاہلیت کی منہ بولا بیٹا بنانے کی اس رسم پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کر دیا جائے کہ لے پالک بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے، ان آیات میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے، حالانکہ جب اللہ تعالی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی، ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خوف فطری تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی، چونکہ اللہ تعالی نے آپ کے اس فطری خوف کابھی ذکر کر دیا، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وحی چھپانی ہوتی تو ان آیات کو چھپا لیتے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کانکاح معروف طریقے کے برعکس صرف اللہ کے حکم سے قرار پا گیا،یعنی نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا اجازت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے، کیونکہ وہ آسمانی فیصلے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی بن چکی تھیں۔ سبحان اللہ! کتنا بڑا شرف ہے سیدہ کا۔
اس باب کا مفہوم درج ذیل ہے: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو اگرچہ اصلاً عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطورِ غلام بیچ دیا، جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو انھوں نے یہ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر کے اپنا لے پالک بیٹا بنا لیا اور بعد میں اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کر دی، بہرحال مزاج میں فرق برقرار رہا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے دامن پر غلامی کا داغ تھا، سو ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی، جس کا تذکرہ زید رضی اللہ عنہ نبیکریم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ ظاہر کرتے رہتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین کرتے، اُدھر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کر دیا جائے گا، تاکہ جاہلیت کی منہ بولا بیٹا بنانے کی اس رسم پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کر دیا جائے کہ لے پالک بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے، ان آیات میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے، حالانکہ جب اللہ تعالی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی، ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خوف فطری تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی، چونکہ اللہ تعالی نے آپ کے اس فطری خوف کابھی ذکر کر دیا، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وحی چھپانی ہوتی تو ان آیات کو چھپا لیتے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کانکاح معروف طریقے کے برعکس صرف اللہ کے حکم سے قرار پا گیا،یعنی نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا اجازت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے، کیونکہ وہ آسمانی فیصلے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی بن چکی تھیں۔ سبحان اللہ! کتنا بڑا شرف ہے سیدہ کا۔