کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8704
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ [سورة السجدة: ٢١] قَالَ الْمُصِيبَاتُ وَالدُّخَانُ قَدْ مَضَيَا وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس آیت {وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔} … اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ سے مراد مختلف مصائب ہیں، دھواں، بطشہ، لزام، یہ سب گزر چکے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دھواں اور بطشہ: دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۴۸)
لزام: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَاؤُکُمْ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ
لِزَامًا۔} … کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔ (سورۂ فرقان: ۷۷)
کافروں کا یہ انجام دنیا میں بدر میںشکست کی صورت میں ان کو مل چکا ہے اور آخرت میںجہنم کے دائمی عذاب سے بھی انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21492»