کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ روم کی تفسیر {الٓمٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8699
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {الم غُلِبَتْ الرُّومُ} [الروم: 1-2] قَالَ غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ قَالَ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْتُمْ كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ قَالَ أُرَاهُ قَالَ الْعَشْرَ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {الم غُلِبَتْ الرُّومُ} إِلَى قَوْلِهِ {وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ} [الروم: 1-4]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {الٓمٓ غُلِبَتْ الرُّومُ} کے بارے میں کہتے ہیں: پہلے رومی مغلوب ہو گئے، پھر وہ غالب آ گئے، مشرکوں کو یہ بات پسند تھی کہ فارس والے رومیوںپر غالب آ جائیں، کیونکہ وہ بھی بت پرست تھے اور یہ بھی بت پرست تھے، لیکن مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم والے فارسیوں پرغالب آجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہواتو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عنقریب غالب آ جائیں گے۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات مشرکوں کو بتائی کہ رومی عنقریب غالب آئیں گے توانہوں نے کہا: تم ہم سے مدت مقرر کرو اور اگر ہم (شرک والے) غالب آ گئے تو ہمارے لیے اتنا اتنا مال ہو گا اور تم (کتاب والے) غالب آ گئے تو تمہیں اتنا اتنا مال دیا جائے گا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پانچ سال کی مدت مقرر کر دی، لیکن اس عرصے میں رومی غالب نہ آ سکے، پھر جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس سے زیادہ مدت کیوں نہیں رکھی۔ راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کی بات کی تھی، سعید بن جبیر کہتے ہیں: بِضْع اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، پھر اس کے بعد رومی غالب آ گئے، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَیِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ } … رومی مغلوب ہوگئے۔ سب سے قریب زمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آئیں گے۔ چند سالوں میں، سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … بِضْع کا اطلاق تین سے نو افراد تک ہوتا ہے، اگرچہ پانچ کا عدد بھی اس میں داخل ہے، لیکن اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نو دس برسوں کی شرط لگا لیتے تو اس میں زیادہ احتیاط تھی۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں کہا: یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا، مدتوں محاصرہ رہا، آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد میں ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں، اس لئے کہ جیسےیہ بت پرست تھے، ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنے اتنے دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنے اتنے دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: قرآن میں مدت کے لئے لفظ بِضْع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر بولا جاتا ہے، چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام سفیان کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8699
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 3193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2495»