کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ عنکبوت {وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8698
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29] قَالَ كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ قَالَ رَوْحٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ} … (اے قوم لوط!) تم اپنی مجلسوں میں برائی کو آتے ہو۔ اس کی تفسیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ راہ گزرنے والوں کو پتھر مارتے تھے، ان سے ٹھٹھا مذاق کرتے تھے، یہ وہ برائی ہے، جس کا وہ اپنی مجلسوں میں ارتکاب کرتے تھے۔ روح راوی نے کہا: یہ صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہے: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ}
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓاِنَّکُمْلَتَاْتُوْنَالْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ اَئِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓاِلَّآاَنْقَالُواائْتِنَابِعَذَابِاللّٰہِاِنْکُنْتَمِنَالصّٰدِقِیْنَ۔} (سورۂ عنکبوت: ۲۸، ۲۹)
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟ پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8698
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي صالح مولي ام ھاني ۔ أخرجه الترمذي: 3190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27429»