حدیث نمبر: 8693
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَصَعِدَ عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَى يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي لُؤَيٍّ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} [المسد: 1]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے قریبی زیادہ رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: سارا دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں صرف اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ} … ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔
حدیث نمبر: 8694
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَقْمَةً مِنْ جَبَلٍ عَلَى أَعْلَاهَا حَجَرٌ (وَفِي رِوَايَةٍ انْطَلَقَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا أَعْلَاهَا) فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قبیصہ بن مخازق اور سیدنا زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کی سب سے بلند چٹان پر کھڑے ہوئے اور پکارنا شروع کر دیا: اے بنو عبد مناف! بے شک میں ڈرانے والا ہوں، یقینا میری اور تمہاریمثال اس آدمی کی مانند ہے، جو دشمن کو دیکھتا ہے اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کی خاطر وہ ڈرتا ہے، لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے گا تو وہ وہیں سے پکارنا شروع کر دیتا ہے اور آواز دیتا ہے: یَا صَبَاحَاہْ!
حدیث نمبر: 8695
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ (وَفِي رِوَايَةٍ جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا) فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو عام ندا دی اور پھر خاص آواز دی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ایک ایک قبیلے کو بلانا شروع کیا اور فرمایا: اے قریش کے گروہ ! اپنی جانوں کو دوزخ سے بچالو، اے بنو ہاشم! خود کو دوزخ سے بچالو، اے بنو عبدالمطلب! اپنی جانوں کو دوزخ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت محمد! اپنی جان دوزخ سے بچا لے، اللہ کی قسم! میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا، ہاں ہاں تمہارے ساتھ رشتہ داری ہے،میں اس کو تر رکھوں گا۔
حدیث نمبر: 8696
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ایک ہی ہے، مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو خصوصی طور پر سمجھایا کریں۔