کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ فرقان {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8691
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کونسا گناہ سب سے بڑاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کاشریک ٹھہرائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس کے بعد کون ساگناہ بڑاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا: اس کے بعدکونساگناہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان باتوں کی تصدیق نازل کر دی اور فرمایا: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔} (سورۂ فرقان: ۶۸) اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا اس کو سخت گناہ کو ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء / حدیث: 8691
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4761، 6811، ومسلم: 86 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3612»