کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {اَفَرَاَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8677
عَنْ مَسْرُوقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أَقْضِيَنَّكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنِّي إِذَا مِتُّ ثُمَّ بُعِثْتُ وَلِيَ ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ) قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى بَلَغَ فَرْدًا [سورة مريم: ٧٧-٨٠]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَہ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُہ مَا یَقُوْلُ وَیاْتِیْنَا فَرْدًا۔} (سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰) کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … عمرو بن عاص کا یہ جواب طنز اور استہزاء پر مشتمل تھا۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہجس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہجس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔