حدیث نمبر: 8674
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حَفْصَةَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا فَقَالَتْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا [سورة مريم: ٧١] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا [سورة مريم: ٧٢]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایاہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔
حدیث نمبر: 8675
عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبُرْسَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سمیہ کہتے ہیں:ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا، بعض نے کہا: اس میں مومن داخل نہ ہو گا، لیکن بعض نے کہا: سب داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو نجات دیں گے۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے ملا اور میں نے کہا: ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ مومن اس میں داخل نہیں ہوں گے، لیکن بعض نے کہا کہ سب داخل ہوں گے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں کو لگائیں اور کہا: یہ بہرے ہو جائیں، اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: وارد ہونے سے مراد داخل ہونا ہے، ہر نیکو کار اور اور بدکار اس جہنم میں داخل ہو گا، لیکن وہ آگ ایمان والوں کے لیے اسی طرح ٹھنڈک اور سلامتی والی ہوگی، جیسے ابراہیم علیہ السلام پر تھی،یہاں تک کہ ٹھنڈک کی وجہ سے ان کی دوزخ میں آواز آئے گی، پھر یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑیں گے۔
حدیث نمبر: 8676
عَنِ السُّدِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا [سورة مريم: ٧١] قَالَ يَدْخُلُونَهَا أَوْ يَلِجُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ قُلْتُ لَهُ إِسْرَائِيلُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام لوگ اس میں داخل ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بل بوتے پر باہر آئیں گے، عبد الرحمن بن مہدی نے امام شعبہ سے کہا: اسرائیل تو اس کو مرفوع بیان کرتے ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے ہم معنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی میں یہ روایت مرفوعا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالی کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَ عْمَالِہِمْ فَأَ وَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔
ارشادِ باری تعالی ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}(سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔
ارشادِ باری تعالی ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}(سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔