حدیث نمبر: 8663
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمَيْهِ إِلَى رَأْسِهِ وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی ابتدائی یا آخری آیات کی تلاوت کی تو اس کے قدم سے سر تک نور ہوگا، اور جس نے اس ساری سورت کی تلاوت کی، اس کے لیے زمین سے آسمان تک نور ہو گا۔
حدیث نمبر: 8664
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 8665
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی آخری آیات پڑھیں، وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کی ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا ہے۔ جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرنا مسنون عمل ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْکَہْفِ فِیْیَوْمِ الْجُمُعَۃِ أَ ضَائَ لَہٗالنَّوْرَمَابَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ۔)) جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی،تویہ عمل اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دے گا۔ (الدعوات الکبیر للبیہقی، مشکوۃ المصابیح)