حدیث نمبر: 8657
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ حکم نازل فرمایا: {وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا} … اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس آیت کے بارے میں درج ذیل تین اقوال ہیں: (۱) یہ آیت ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینے میں داخل ہونے اور مکے سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا۔
(۲) اس میں یہ دعا کی جا رہی ہے کہ سچائی کے ساتھ موت ملے اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھایا جائے۔
(۳) یہ دعا کی جا رہی ہے کہ قبر میں سچا داخل کیا جائے اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھایا جائے تو سچائی کے ساتھ نکالا جائے۔
امام شوکانی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے، اس لیے اس کے عموم میں یہ سب باتیں آ جاتی ہیں۔
(۲) اس میں یہ دعا کی جا رہی ہے کہ سچائی کے ساتھ موت ملے اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھایا جائے۔
(۳) یہ دعا کی جا رہی ہے کہ قبر میں سچا داخل کیا جائے اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھایا جائے تو سچائی کے ساتھ نکالا جائے۔
امام شوکانی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے، اس لیے اس کے عموم میں یہ سب باتیں آ جاتی ہیں۔