کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8654
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس منظر سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات کو دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 8654M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ رَآهُ بِعَيْنَيْهِ حِينَ ذَهَبَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ اس سے مراد وہ چیز ہے، جو حالت بیداری میں تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھ کے ساتھ دیکھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی جانب لے جایا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اسراء و معراج کا سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے، اس سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتاہے، لیکنیہ واقعہ ساتھ ساتھ لوگوں کی آزمائش اور امتحان بھی ہے، حدیث نمبر (۱۰۵۶۴) اور اس کے بعد والی احادیث میں اسراء و معراج کی تفصیل موجود ہے۔