کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8653
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے صفا پہاڑی کو سونے کی بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے دور کر دیں، تا کہ (جگہ ہموار ہو جائے اور) وہ کھیتی باڑ ی کر سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کو مہلت دے دیں اورچاہتے ہیں تو ان کے لیے ان کا مطالبہ پورا کر دیں، لیکن اگر مطالبہ پورا ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے کفر کیا تو میں انہیں اس طرح ہلاک کر دوں گا، جس طرح ان سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں انہیں مہلت دیتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ وَاٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِہَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا۔} … اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلادیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کوئی شرعی قانون نہیں ہے کہ دشمنوں کا ہر مطالبہ پورا کیا جائے، اللہ تعالی اپنی حکمت کی روشنی میں اور اتمام حجت کے لیے مختلف نشانیوں کا اظہار تو کرتا ہی رہتا ہے، وگرنہ گزر جانے والی امتوں نے نشانی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد نہ صرف ایمان قبول نہیںکیا، بلکہ وہ ظلم میں اور آگے بڑھ گئے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا اَفَلَمْ یَایْئَـسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْیَشَاء ُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُہُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِہِمْ حَتّٰییَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔} (سورۂ رعد: ۳۱)
اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی،یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دِکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان ابھی تک کفّار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کا رویّہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کر تو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء / حدیث: 8653
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11290، والحاكم: 2/ 362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2333»