کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَ رْضُ غَیْرَ الْأَ رْضِ وَالسَّمٰوَاتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8646
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} [إبراهيم: 48] قَالَتْ فَقُلْتُ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَى الصِّرَاطِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسروق سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے لوگوں میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا: {یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَ رْضُ غَیْرَ الْأَ رْضِ وَالسَّمٰوَاتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ} … جس دن زمین تبدیل کر دی جائے گی اور آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے ظاہر ہو جائیں گے، جو یکتا و یگانہ اور زبردست ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایکیہودی عالم آیا اور اس نے کہا: أَ یْنَیَکُونُ النَّاسُ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَ رْضُ غَیْرَ الْأَ رْضِ وَالسَّمٰوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ہُمْ فِی الظُّلْمَۃِ دُونَ الْجِسْر۔)) … جس دن زمین و آسمان کو تبدیل کیا جائے گا، اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پل صراط سے پہلے اندھیرے میں ہوں گے۔ (صحیح مسلم: ۴۷۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء / حدیث: 8646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24570»