کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8645
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرَ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ اللَّهُ رَبِّي وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [إبراهيم: 27] يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُسْلِمَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَفِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور فرمایا: قبر میں بندے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ میرا ربّ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں،یہ درست جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِینَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ} … اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، پختہ بات کے ساتھ خوب قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔ یعنی اس سے مراد مسلمان ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عذاب قبر سے متعلقہ ابواب میں اس موضوع کی طویل احادیث کا بیان ہے۔