حدیث نمبر: 8643
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: 16-17] قَالَ يُقَرَّبُ إِلَيْهِ فَيَتَكَرَّهُهُ فَإِذَا دَنَا مِنْهُ شُوِيَ وَجْهُهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ وَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: 15] وَيَقُولُ اللَّهُ {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: 29]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَیُسْقٰی مِنْ مَائٍ صَدِیدٍیَتَجَرَّعُہُ} … اور اسے اس پانی سے پلایا جائے گا جو پیپ ہے۔ وہ اسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: جب یہ پانی دوزخی کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کرے گا،پھر جب وہ منہ قریب کرے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اورا س کے سر کی کھال اس میں گرجائے گی اور جب اس کو پئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی جو کہ اس کے پائخانے کے راستے سے نکل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَسُقُوا مَائً حَمِیمًا فَقَطَّعَ أَ مْعَائَ ہُمْ} … ان کو گرم پانی پلایا جائے گا، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کے رکھ دے گا۔ مزید فرمایا: {وَإِنْ یَسْتَغِیثُوْایُغَاثُوْا بِمَائٍ کَالْمُہْلِیَشْوِی الْوُجُوہَ بِئْسَ الشَّرَابُ} … اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انھیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا پانی دیا جائے گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، برا مشروب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … أَ عَاذَنَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔ (اللہ تعالی ہمیں آگ سے پناہ عطا فرمائے) آمین۔