کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سورۂ یوسف کی تفسیر {فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ لِرَسُولِهِ {فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ} [يوسف: 50] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: { فَاسْأَ لْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِی قَطَّعْنَ أَ یْدِیَہُنَّ} کے بارے میں فرمایا: اگر یوسف علیہ السلام کی جگہ میں ہوتا تو میں پیغام دینے والے کی بات کو بہت جلدی قبول کر لیتا اور میں نے کوئی عذر تلاش نہ کرنا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یوسف علیہ السلام جیل میں تھے اور بادشاہ کی اجازت کے باوجود وہاں سے نکلنے میں جلدی نہیں کی، تاکہ کوئییہ نہ سمجھے کہ یہ واقعی گنہگار تھے اور اب ان کو معاف کر کے رہا کر دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اُن پر یہ حجت قائم کر دیں کہ انھوں نے اِن پر ظلم کر کے اِن کو قید کیا تھا، یہیوسف علیہ السلام کا حسنِ صبر اور قوت ِ عزم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی و انکساری کا اظہار کر رہے ہیں۔